انوارالعلوم (جلد 14) — Page 507
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر وقت خریدار تھا اور یہ سب پیشگی قیمت دیتے تھے۔اگر انسان ایک دفعہ ضد کر کے بیٹھ جائے اور کہے کہ خواہ کچھ ہو میں نے اس طریق میں تبدیلی نہیں کرنی تو آہستہ آہستہ لوگ اُسی طرف آ جاتے ہیں۔پس اخبارات والوں کو بھی میں سنا دیتا ہوں کہ آئندہ اُس اخبار سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں ہوگی جو بقائے پر چلتا ہو۔صرف اُس اخبار سے ہمیں ہمدردی ہوگی جس کے چلانے والے لوگوں سے پیشگی قیمت لیتے ہوں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ سال بھر کی بجائے چھے مہینے یا تین مہینے کی پیشگی قیمت دے کر اگر کوئی اپنے نام اخبار جاری کرانا چاہے تو اُس کے نام چھ مہینے یا تین مہینے کیلئے اخبار جاری کر دیا جائے لیکن یہ نہ ہو کہ کسی کے نام اخبار مُفت جا رہا ہو بلکہ قیمت ختم ہونے سے پندرہ دن پہلے اُسے نوٹس دے دینا چاہئے اور آئندہ کیلئے قیمت کا مطالبہ کرنا چاہئے۔انگریزی اخبارات تو صرف ایک ہفتہ کی مہلت دیتے ہیں اور اگر دیکھتے ہیں کہ کسی نے توجہ نہیں کی تو فوراً اُس کے نام اخبار بند کر دیتے ہیں۔پس یہ بھی ایک بے اصولا پن ہے کہ بغیر قیمت لئے اخبار بھیجی جائے اس سے جماعت میں سستی اور غفلت پیدا ہوتی ہے۔پس تمام اخبارات والوں کو اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ جو اخبار بقائیوں پر چلے گا اس سے آئندہ ہمیں کوئی ہمدردی نہیں ہوگی۔بعض دوست یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ ہمیں اخبار کی قیمت میں کچھ رعایت دی جائے حالانکہ ہمارے ملک میں اخبارات نفع پر نہیں بلکہ نقصان پر چل رہے ہیں اسی لئے بعض اخبارات کا طریق ہوتا ہے کہ پہلے وہ کسی رئیس یا نواب کی تعریف میں ایک نوٹ لکھ دیتے ہیں اور اخبار اسے بھجوا دیتے ہیں۔پھر خود اس کے پاس چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں جناب نے وہ نوٹ ملاحظہ فرمایا ہے؟ ہمارا اخبار جناب کا خادم ہے اور ہمیشہ خادم رہے گا۔اس طرح چند تعریفی کلمات کہہ کر اُس سے کچھ روپیہ بٹور لیتے ہیں اور اگر وہ کچھ نہیں دیتا تو اگلا نوٹ اُس کی مذمت میں شائع کرتے ہیں اور اُس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ فلاں رئیس یا نواب کے خلاف نہایت سخت رپورٹیں پہنچ رہی ہیں اگر وہ چاہیں اور ہمیں یقین دلا دیں کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہونگے تو ہم ان رپورٹوں کی تردید کر سکتے ہیں۔اس پر اگر تو وہ ڈرپوک ہوتا ہے تو سو دو سو روپے بھجوا دیتا ہے اور معاملہ دب جاتا ہے اور اگر وہ پھر بھی کچھ نہیں دیتا تو انہیں سخت رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں اور اُس کے خلاف وقتاً فوقتاً نوٹ شائع ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اخبار والوں کی منت و سماجت کر لیتا ہے یا مقدمہ کر کے سیدھا کر لیتا ہے لیکن ہمارے اخبار کی یہ حالت نہیں ہمارے اخبارات اگر اس طرح کریں تو ہم انہیں ایسی سزا دیں کہ ان کے لئے اخبار چلانا مشکل ہو جائے۔پھر باقی اخبارات والوں کا یہ