انوارالعلوم (جلد 14) — Page 447
انوار العلوم جلد ۱۴ مشکلات کے مقابلہ میں بہادرانہ طریق عمل اختیار کرو کے رستہ میں پھر یہ تکلیف اٹھانی پڑے تو پھر تیار ہوں۔مگر یہ غیر معتین صورت ہوتی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے امتحان لینا ہو تب قید کی تکلیف اُٹھا ئیں یہ نہیں کہ ان کی خواہش ہو کہ پھر اسی جیل خانہ میں آئیں۔بیسیوں لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جیل خانہ سے بہت کچھ کما کر لاتے ہیں، وہ ملازمین سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں اور قیدیوں کو سگریٹ تمباکو شراب وغیرہ پہنچاتے ہیں۔روپیہ کی چیز چار آنے کی قیدیوں تک پہنچتی ہے باقی ملازموں اور کام کرنے والے قیدیوں کے حصہ میں آتی ہے ان کے قید کے زمانہ میں ان کا حصہ جمع ہوتا رہتا ہے اور جب وہ باہر آتے ہیں تو لے لیتے ہیں۔ایسے لوگ اگر کہیں کہ ہم پھر اس جیل خانہ میں آئیں گے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔مجھے ایک افسر نے بتایا کہ جیل خانہ کے ایک سپر نٹنڈنٹ نے جو مر گیا ہے، جیل خانہ سے اپنے گھر آٹے کی کچھ بوریاں بھجوائیں۔چونکہ پہلے پہل جب میں وہاں گیا تھا تو اُس نے مجھے نصیحت کی تھی کہ آپ احمدی ہیں، بہت احتیاط رکھیں یہاں اخلاق بگڑ جاتے ہیں اس لئے کچھ دنوں کے بعد جب میں نے دیکھا کہ باہر ایک گڈا کھڑا ہے اور اس پر بوریاں لا دی جارہی ہیں اور میرے پوچھنے پر کہ کیسی ہیں لادنے والوں نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ کے گھر جا رہی ہیں۔تو میں نے ملازمین کو ڈانٹا کہ تم انہیں کیوں بدنام کرتے ہو اور بوریاں رکھوا لیں۔دوسرے دن جب وہ آیا تو میں نے اُسے یہ واقعہ بتایا۔اسے سن کر وہ کہنے لگا کہ ملازم بہت شریر اور خبیث ہیں آپ نے اچھا کیا لیکن دوسری اور تیسری دفعہ بھی ایسا ہی ہوا۔آخر اس نے مجھے دفتر میں بلایا اور کہنے لگا دیانت وغیرہ مسلمانوں کی آپس میں ہوتی ہے۔یہ کا فر ہیں، ان کا مال لینا نا جائز نہیں۔پھر اس قسم کا مال میں اپنے پاس رکھا نہیں کرتا یہ لوتین سو روپیہ سو روپیہ فلاں مسجد کو سو روپیہ فلاں انجمن کو اور سو روپیہ فلاں احراری مولوی صاحب جو قید ہیں اُن کی والدہ کو بھجوا دو اس طرح اُس نے مجھ سے وہ روپیہ خرچ کرایا اور میں نے سمجھا کہ اس دفعہ یہ روپیہ دیا جا رہا ہے تا کہ آئندہ کیلئے مجھے خاموش کرایا جائے۔تو جیل خانہ کے ملازموں کا ایک حصہ متواتر حرام خوری کرتا ہے اور ان کے شریک کاران کے ساتھ ملکر کھاتے ہیں۔شریف بھی ہوتے ہیں جو ہندوستانیوں میں بھی اور انگریزوں میں بھی ہیں۔مگر جہاں ایسے افسر ہوں جو نا جائز طور پر کمانے والے ہوں، وہاں جیل میں ان قیدیوں کا جو ان کے مددگار ہوتے ہیں رہنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے نوکری کر لی۔اور وہی یہ کہا کرتے ہیں کہ لوٹا اور کمبل سنبھال رکھنا ہم پھر آئیں گے۔ایسے قیدیوں کا قید خانہ کے متعلق نقطہ نگاہ اور ہوتا ہے مگر ایک شریف کا نقطہ نگاہ اور ہوتا ہے۔گو