انوارالعلوم (جلد 14) — Page 446
انوار العلوم جلد ۱۴ مشکلات کے مقابلہ میں بہادرانہ طریق عمل اختیار کرو خرابی کو نمایاں طور پر حکومت کے سامنے لایا نہیں گیا ورنہ حالت اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ کوئی دیانت دار یہ کہ نہیں سکتا کہ اس بارے میں اصلاح کی ضرورت نہیں۔ایک مجسٹریٹ جس کی ترقی کا انحصار سپرنٹنڈنٹ پولیس کی مسکراہٹ پر منحصر ہو کیونکر ممکن ہے کہ اس گواہی کو دیکھ کر جسے سپرنٹنڈنٹ پولیس یا دوسرے پولیس والوں کی طرف سے پیش کیا جائے، رڈ کر دے وہ جانتا ہے کہ میری کامیابی یا نا کامی اس سے وابستہ ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض حماقت سے یہ بات پیش کیا کرتے ہیں کہ بہر حال جو ڈیشل اور ایگزیکٹوکو اگر الگ بھی کیا جائے تو بھی ایک مقام پر جا کر وہ ایک ہاتھ میں جمع ہو جائیں گی۔مگر ابتدائی حالتوں میں ایسا ہونا اور بات ہے اور انتہائی حالتوں میں ہونا اور بات۔انگلستان میں بھی بادشاہت یا وزارت کے ہاتھ میں جوڈیشل اور ایگزیکٹو محکموں کی باگیں جمع ہو جاتی ہیں مگر ان بالا افسروں کو لوکل معاملات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی ، اُن کا عہدہ اتنا بالا اور بلند ہوتا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے اور جائز طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان معاملات میں دخل نہ دیں گے۔پس سوال ماتحت اور چھوٹے افسروں کا ہے جن کا روزانہ میل جول آپس میں ہوتا ہے اور جو ایک دوسرے سے تعلقات رکھتے ہیں۔وہ مجبور ہوتے ہیں کہ ان تعلقات کو نبھا ئیں اور ایک دوسرے کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کے منشاء کے مطابق کام کریں۔میں نے اس بات کو مد نظر رکھ کر قبرستان کے مقدمہ میں جو ملزم تھے اُن کو مشورہ دیا تھا کہ اگر بطور سزا جرمانہ ہو تو ادا نہ کریں اور قید قبول کریں ہاں اگر حکام خود حجر مانہ لے لیں تو اور بات ہے۔خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت باقی سارے ملزمین تو رہا ہو گئے اور صرف مولوی عبدالرحمان صاحب باقی رہ گئے جن کو موقع مل گیا کہ جیل میں چلے جائیں۔مگر ان کی مثال امریکہ کے اُن سیاحوں کی سی ہے جو پندرہ بیس روز کیلئے ہندوستان آتے اور پھر واپس جا کر ہندوستان کی سیاسیات پر کتاب لکھ دیتے ہیں اگر وہ لوگ پندرہ بیس روز کی سیاحت کے بعد ہندوستان پر کتاب لکھ سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مولوی عبد الرحمن صاحب پندرہ بیس روز جیل خانہ میں رہ کر جیل خانہ کے متعلق کتاب نہ لکھ دیں۔اگر وہ کسی اچھے مصنف سے مل کر ایسی کتاب لکھیں تو میرا خیال ہے کہ بہت مفید ہو سکتی ہے۔ان لوگوں کے اثرات جو عادی مجرم ہوتے ہیں جیل خانہ سے نکلتے ہوئے یہ ہوتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہما ر لوٹا اور کمبل محفوظ رکھنا ہم پھر آئیں گے لیکن ایک شریف انسان کا یہ خیال نہیں ہوتا۔چاہے یہ خیال ہو کہ اگر خدا تعالیٰ