انوارالعلوم (جلد 14) — Page 437
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ ایک مغربی بدمذاقی کا واقعہ ایک اور واقعہ بھی زیر تحقیق آیا ہے۔یہ واقعہ لاہور کا ہے جو احمد یہ ہوٹل میں ہوا۔یہ ایک مغربی بدمذاقی ہے کہ کالجوں میں نئے جانے والوں کے ساتھ پرانے طالب علم مذاق وغیرہ کرتے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ صاحب احمد یہ ہوٹل کا بیان ہے کہ بعض پرانے طلباء نے نئے طلباء کے ساتھ ہنسی کی ، اس کے جواب میں بعض نئے لڑکوں نے مصری صاحب کے بڑے لڑکے کے ساتھ مل کر پُرانوں سے کچھ مذاق کیا ، انہوں نے اس مذاق کو حد سے زیادہ سمجھا اور چھت پر جا کر جہاں وہ لڑکے اُس وقت تھے ان سے جھگڑا شروع کر دیا۔جھگڑے کو بڑھتے دیکھ کر عزیزم مرزا منیر احمد میرے بھتیجے اور عزیزم مرزا منور احمد میرے لڑکے کو دوسرے لڑکوں نے کہا کہ چل کر لڑائی بند کرا دیں۔وہ اوپر گئے اور لڑائی کو بند کرایا۔جب چھت سے لڑ کے اُتر آئے تو پھر جوش میں جھگڑا شروع ہو گیا۔مرزا منیر احمد نے پھر صلح کرانی شروع کی مگر مصری صاحب کے لڑکے نے اسے غصہ میں تو تو کہہ کر بلا نا شروع کیا۔منیر احمد نے اس پر غصہ میں آکر مصری صاحب کے بڑے لڑکے کو مکا مارا اور لڑائی دوسروں سے ہٹ کر ان دو میں آگئی۔اس پر میرا لڑکا مرزا منور احمد لڑائی کو بند کرانے کیلئے آگے بڑھا تو مصری صاحب کے چھوٹے لڑکے نے خیال کیا کہ شاید میرے بھائی کو مارنے کو آگے بڑھا ہے، اور اس نے پیچھے سے آ کر منور احمد کو مکا مارا۔اس پر منور احمد کو بھی جوش آیا اور اُس نے اس کو مکا مارا۔کچھ شور وشر کے بعد دوسرے لڑکوں نے معاملہ رفع کرا دیا۔اور سپر نٹنڈنٹ نے بعد تحقیق سب کی آپس میں صلح کرا دی اور غالباً اسی وجہ سے اس کی رپورٹ فوراً میرے پاس نہیں کی گئی۔مگر کسی اور شخص نے میرے پاس رپورٹ کر دی۔اتفاقاً اُسی دن میں سخت بیمار ہو گیا اور ایک وقت میں خطرہ پیدا ہو گیا کہ شاید یہ آخری وقت ہے۔چونکہ میں نے بہت سے لوگوں کا قرض دینا ہے، میں ڈرا کہ کہیں کسی کا قرض ریکارڈ سے رہ نہ جائے۔میں نے راتوں رات فون کر کے منور احمد کو بلوایا تا کہ اُس کی اور اُس کے بڑے بھائی مرزا مبارک احمد کی موجودگی میں قرض داروں کے حقوق کے متعلق وصیت کر کے ان کے حقوق محفوظ کر دوں اور ان کے اس پر دستخط کرا دوں کیونکہ یہی دو جوان لڑکے میرے ہندوستان میں موجود ہیں۔منور احمد آدھی رات کو موٹر میں قادیان پہنچا۔خیر اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ رات خیریت سے گزرگئی اور طبیعت بحال ہونے لگ گئی۔جب دوسرے دن شام کو میری طبیعت زیادہ بحال ہوئی تو میں نے مرزا منور احمد کو بلوایا اور اس کی والدہ اور