انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 231

انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات پر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی محبت اتنی غالب ہو کہ انہیں اس ملک میں جا کر بھی تکلیف محسوس ہو لیکن انہیں نظر انداز کرتے اور اس قسم کی طبیعت والوں کومستی کرتے ہوئے جن کو خواہ کیسی ہی آرام کی جگہ لے جایا جائے اگر وہاں ان کے اقرباء اور رشتہ دار نہ ہوں تو وہ ان کی جُدائی کبھی برداشت نہیں کر سکتے اور جو زیادہ سے زیادہ دو تین فیصدی ہوتے ہیں باقی ۹۷ یا ۹۸ فیصدی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی نظر دُنیا پر ہوتی ہے اور وہ ان ملکوں میں جانے کو ایسا ہی پسند کرتے ہیں جیسے مومن جنت میں جانے کو۔میں نے دیکھا ہے سال میں دو تین چٹھیاں بعض غیر احمدیوں کی طرف سے ضرور اس قسم کی آ جاتی ہیں کہ آپ ہمارے لئے چند مہینوں کے خرچ کا انتظام کر دیں ہم اپنی ساری زندگی تبلیغ اسلام کیلئے وقف کرنے کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ ہمیں اسلام کی تبلیغ کیلئے امریکہ یا انگلینڈ بھیجا جائے۔میں ہمیشہ ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ امریکہ یا انگلینڈ ہی صرف ایسے ملک نہیں ہیں جن میں تبلیغ اسلام کی ضرورت ہو بلکہ اور بھی کئی ایسے ممالک ہیں جن میں اسلام کی تبلیغ کی ضرورت ہے اگر آپ آئیں اور تبلیغ کا طریق سیکھ لیں تو میں آپ کو چین ، جاپان یا کسی دوسرے ملک میں تبلیغ اسلام کیلئے بھیج سکتا ہوں۔اگر آپ ان ممالک میں جانے کیلئے تیار ہوں تو مجھے اطلاع دیں امریکہ یا انگلینڈ میں ہم آپ کو نہیں بھیج سکتے کیونکہ وہاں ہمارے مبلغ موجود ہیں۔میں نے دیکھا ہے اس جواب کے بعد دوبارہ ان کی طرف سے کبھی درخواست نہیں آئی۔تو سال میں دو تین درخواستیں بعض گریجوائیٹس کی طرف سے اس قسم کی آ جاتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو پوری طرح قربان کرنے کیلئے تیار ہیں اور اس بات کیلئے بالکل آمادہ ہیں کہ اسلام کیلئے اپنی جان دیدیں بشرطیکہ اُن کے گلے پر چھری امریکہ میں پھیری جائے یا انگلینڈ میں۔تو اس قسم کی قربانی در حقیقت ان حالات میں کوئی قربانی نہیں بلکہ ان ممالک میں قربانی کا نقطہ نگاہ بالکل اور ہے۔ان ممالک میں قربانی جان کی نہیں بلکہ ان ممالک میں قربانی جذبات کی ہے۔ایک امریکہ یا انگلینڈ میں جانے والا ہمارا مبلغ اپنی روٹی کی قربانی ہرگز نہیں کر رہا، وہ اپنے مال کی قربانی ہر گز نہیں کر رہا، وہ اپنی جان کی قربانی ہر گز نہیں کر رہا وہ اپنے تمدن کی قربانی ہر گز نہیں کر رہا ، وہ اپنے سوشل تعلقات کی قربانی ہر گز نہیں کر رہا وہ جو قربانی کر سکتا ہے اور جو اُس کیلئے مشکل ہے وہ یہ ہے کہ وہ وہاں کے اثرات اور وہاں کے غالب خیالات پر چھا جانے کی کوشش کرے اور اُس رو کے مقابلہ میں کھڑا رہے جو اسلام کے خلاف اس جگہ جاری ہے۔وہ بے شک