انوارالعلوم (جلد 14) — Page 232
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدا اہم ہدایات جنسی برداشت کرے، وہ بے شک تمسخر سُنے مگر اسلام کے اُن مسائل پر مضبوطی سے قائم رہے جن مسائل پر آج مغرب ہنس رہا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ قربانی کرتا ہے اور اگر وہ نہیں کرتا تو اس کی قربانی کے تمام دعوے محض دھوکا، محض فریب اور محض تمسخر ہیں۔وہ احمدیت کیلئے قربانی نہیں کر رہا بلکہ احمدیت کو مغرب کی رو کے مقابلہ میں قربان کر رہا ہے۔میں ایک سال کے اندر اندر ایک ہزار ایسے آدمی پیش کر سکتا ہوں نہ صرف احمدیوں سے بلکہ غیر احمد یوں میں سے جو اس بات کیلئے بالکل تیار ہیں کہ احمدیت کیلئے اپنی جان قربان کر دیں بشرطیکہ اُن کے گلے پر چھری امریکہ یا انگلینڈ میں پھیری جائے۔پس اس قربانی کیلئے جس کیلئے غیر بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتے بلکہ پیش کرتے رہتے ہیں اپنے آپ کو تیار کرنا کوئی خوبی اور کمال نہیں۔ایک شخص تو پچھلے دنوں چھ مہینے تک متواتر یہاں آتا رہا اور اُس نے کئی سفر کئے وہ بار بار یہ کہتا کہ مجھے خواب آئی ہے کہ میں اپنے آپ کو خدمت اسلام کیلئے پیش کر دوں۔پہلے تو جب ہم نے اُسے کہا کہ ہم احمدی مبلغ ہی باہر بھیجتے ہیں اور وں کو نہیں بھیجتے تو کہنے لگا میں حاضر ہوں میری بیعت لے لیجیے۔مگر مجھے خواب آ چکی ہے کہ آپ نے مجھے باہر بھیجا ہے اس لئے مجھے باہر بھیج دیجئے۔میں نے کہا مجھے تو کوئی خواب نہیں آئی جس دن مجھے آئی میں بھیج دوں گا۔خواب کے معنے تو صرف اتنے ہی ہیں کہ آپ مجھ سے مشورہ لیں۔سو میں آپ کو مشورہ دے دیتا ہوں کہ آپ چلے جائیں لندن میں یا چلے جائیں جرمن، فرانس یا امریکہ میں۔کہنے لگا نہیں میں تو سلسلہ کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا آپ تو اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں مگر میں تو آپ کو لینے کیلئے تیار نہیں۔وہ بیچ۔وہ بیچارہ چھ مہینے تک یہاں آتا رہا اور بار بار خطوں میں بھی لکھتا کہ مجھے خواب آئی ہے مگر میں نے اُسے نہ بھیجا۔وہ اپنے دل میں یہی کہتا ہو گا کہ بیعت کر کے بھی کیا فائدہ حاصل کیا۔تو جس قسم کی قربانی ہمارے امریکہ یا انگلینڈ جانے والے مبلغ کرتے ہیں ، ان طبائع کو مستی کرتے ہوئے جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور جس کے ماتحت ہمارے مبلغوں میں بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو دو فیصدی میں شامل ہوں اور جو گھر سے باہر نہیں رہ سکتے بلکہ اپنی دماغی بناوٹ کے نتیجہ میں گھر سے باہر رہنا موت سمجھتے ہیں، اُن کی قربانی حقیقی قربانی نہیں کہلا سکتی اور جن دو فیصدی کا میں نے ذکر کیا ہے ان کی قربانی بھی مخصوص قربانی ہوگی اور محض ان کے نفس کیلئے ہوگی۔پس عام حالات میں امریکہ یا انگلینڈ جانے والا مبلغ کسی چیز کی قربانی نہیں کرتا سوائے اس کے کہ وہ بیمار ہو جائے یا سوائے اس کے کہ اُس کے جذبات بہت نازک