انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 230

انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم اہم ہدایات اپنی روٹی کمانے کیلئے وہاں جا کر کام بھی کرنا پڑتا ہے اور اس کیلئے بعض کو بڑی بڑی محنتیں کرنی پڑتی ہیں۔میں جب انگلستان میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص وہاں بیرسٹری کی تیاری کر رہا تھا دو سال سے اُسے گھر سے خرچ نہیں آیا تھا مگر وہ کام کر کے روپیہ کماتا اور اس کے ساتھ ہی تعلیم بھی حاصل کرتا، اب وہ بیرسٹر ہے اور ہندوستان میں ہی کام کرتا ہے۔غالباً جہلم یا گجرات مجھے صیح یاد نہیں مگر ان میں سے کسی ایک جگہ وہ کام کرتا ہے اور کبھی کبھی مجھے بھی اس کا خط آ جاتا ہے۔تو لوگ اُن تکلیفوں سے زیادہ تکلیفیں اُٹھا کر جو ہمارے مبلغین کو پہنچتی ہیں یا پہنچ سکتی ہیں محض اس لئے کہ یوروپین زندگی خوش آئند ہے اور اُن کی طبائع کو بھاتی ہے، وہ اس ملک میں جاتے اور اس زندگی کو اس زندگی پر ایسی ترجیح دیتے ہیں کہ بعض دفعہ اپنے ماں باپ یا دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں کی بیماری اور موت کی خبریں بھی انہیں ملتی ہیں تو وہاں سے آنا پسند نہیں کرتے۔پس ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں جانا کسی قسم کی قربانی نہیں سوائے اس کے کہ جانے والے کے اپنے دل میں کمزوری ہو کیونکہ بعض لوگ ہوم سک (HOME SICK) میں مبتلا ہوتے ہیں یعنی گھر کی محبت جلدی اُن پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اُداس اور غمگین ہو جاتے ہیں۔اس مرض کے مریضوں کو چھوڑ کر کہ اس قسم کے لوگوں کی بھی کچھ تعداد ہوتی ہے اور ان کیلئے سفر واقعی ایک قربانی ہوتی ہے کیونکہ جو چیز دوسروں کی نگاہ میں عیش اور لذت کا سامان ہو وہ اُن کیلئے دُکھ اور مصیبت کا باعث ہوتا ہے۔وہ دن کی گھڑیوں میں اس دکھ اور درد سے کراہتے اور رات کی تنہائی کی گھڑیوں میں آنسو بہاتے اور روتے ہیں۔چنانچہ ہمارے بچے جو ولایت گئے ہوئے ہیں ، ان میں سے ایک کے متعلق چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال تک روزانہ رات کو روتا تھا اور جب اُس سے پوچھا جائے کہ تم کیوں روتے ہوتو وہ کہتا میں قادیان کی یاد میں رورہا ہوں۔تو ایسی طبائع بھی ہوتی ہیں جن پر افسردگی اور غم کی گھڑیاں آتی رہتی ہیں۔وہ تعیش اور آرام کی زندگی کو بُھول جاتے اور سہولت اور آرام کے تمام ذرائع کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں اور دوستوں کی یاد میں آنسو بہانے لگ جاتے ہیں۔بعض پر یہ گھڑیاں کسی کسی وقت آتی ہیں بعض پر آتی ہی نہیں اور بعض ایسے بھی دیکھے گئے ہیں جو درمیان میں ہی ولایت کی تعلیم محض اس لئے چھوڑ کر آ گئے کہ گھر کی جدائی ان سے برداشت نہ ہوسکی حالانکہ آرام وہاں بہت زیادہ ہے۔تو بے شک اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ استثنائی رنگ میں بعض ایسے بھی لوگ ہوں جن