انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxxvii
انوار العلوم جلد ۱۴ تعارف کنند کتب حضور نے فرمایا یہی تاریخ آج دُہرائی جارہی ہے اور ہمارے خلاف بھی تمام مذاہب ، تمام فرقے اور تمام قو میں متحد ہو چکی ہیں اور اَلْكُفْرُ مِلَّةً وَاحِدَةً کا عملی ظہور ہورہا ہے۔مخالفت میں یہاں تک انتہاء کر دی ہے کہ اب احمدی مُردوں کو بھی قبرستانوں میں دفن ہونے نہیں دیا جا رہا۔حضور نے فرمایا کہ مصری صاحب اور مولوی فخر الدین صاحب جو جماعت سے الگ ہو گئے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ نَعُوذُ بِاللہ جماعت دہر یہ ہورہی ہے اور وہ جماعت کی اصلاح کرنے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پورا کرنے کیلئے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ان لوگوں کی پشت پناہی احراری اور پیغامی وغیرہ کر رہے ہیں اور ان کے اشتہار بانٹ رہے ہیں۔تعجب کا مقام ہے کہ اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو شیطانی طاقتوں کو ان کے خلاف ہونا چاہئے تھا اور ہمارا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ بقول اُن کے نَعُوذُ بِاللهِ ) ہم بگڑ گئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف جا رہے ہیں پھر یہ کیسے ہوا کہ وہ تمام مخالف قو تیں بچوں کے ساتھ مل گئی ہیں ؟ پس مخالفین کا مصری صاحب اور فخر الدین صاحب کے ساتھ ملنا اور ان کی مدد کر نا صاف بتا رہا ہے کہ اَلْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ کے مطابق یہ سب کفر کی قوتیں ہیں جو آج جماعت کے خلاف متحد ہو چکی ہیں۔پس یہ جماعت کی صداقت کا ایک روشن اور بین ثبوت ہے۔(۲۶) قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض ۱۹۳۴ ء کے فتنہ میں احراریوں کی زبردست شکست کے بعد مخالفین نے جماعت کے خلاف کئی نئے محاذ کھول لئے۔ان میں سے ایک مرتدین کا فتنہ تھا۔میاں فخر الدین صاحب ملتانی بھی انہی بد قسمت مخالفین میں شامل تھے انہوں نے خلافت احمدیہ کے خلاف نہایت اشتعال انگیز زبان استعمال کی اور اشتہار شائع کئے جس سے مشتعل ہو کر قادیان کے ایک احمدی نو جوان میاں عزیز احمد نے ان پر حملہ کر دیا۔اس واقعہ کا حضرت مصلح موعود نے سختی سے نوٹس لیا اور جماعت کو صبر دکھانے ، قانون کی پابندی کرنے اور کامل اطاعت کا نمونہ پیش کرنے کی تلقین فرمائی۔آپ نے فرمایا اسلام ہمیں قانون کی پابندی کا تاکیداً حکم دیتا ہے۔سزا دینا قانون کا حق