انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxvi of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxxvi

انوار العلوم جلد ۱۴ کتب تعارف کنند جمعيت فتيان الاحمدیہ نے ۱۰ جولائی کو ان کے اعزاز میں دعوت دی۔اس موقع پر حضور نے یہ مختصر سا خطاب فرمایا۔آپ نے ارشاد فرمایا:۔”میرے نزدیک ہماری جماعت ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس حالت کے خلاف پروٹسٹ کرتے ہوئے جو بدقسمتی سے نظام حکومت میں پیدا ہوگئی ہے ہماری جماعت کا ایک فرد جیل خانہ میں گیا۔“ حضور نے نظام حکومت کو بہتر بنانے کے لئے گورنمنٹ کو ایگزیکٹو اور جوڈیشنل کو الگ الگ کرنے کی تجویز دی کیونکہ ماتحت اداروں کے چھوٹے افسر ایک دوسرے سے تعلقات رکھتے ہیں وہ مجبور ہوتے ہیں کہ ان تعلقات کو نبھا ئیں۔اس لئے بسا اوقات خصوصاً جب گورنمنٹ فریق بنتی ہے تو طبعا اس طرف مائل ہو جاتے ہیں اور انصاف کا پورا خیال نہیں رکھا جاتا۔حضور نے جماعت کو دلیری اور بہادری دکھانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا۔'جو کوئی مصیبت میں گھر جائے اُسے بجائے بُزدلی دکھانے کے ایسی بہادری دکھانی چاہئے کہ لوگ سمجھ لیں احمدی بُزدل نہیں۔“ آپ نے نیشنل لیگ کور کے قیام کا مقصد بھی یہی بتایا تا احمدی نوجوانوں میں بہادری اور ایثار سے کام کرنے کی عادت پڑے اور وہ غریبوں، بیماروں اور مصیبت زدوں کی مدد کریں کیونکہ یہی حقیقی بہادری ہے۔(۲۵) موجودہ فتنہ میں کفر کی تمام طاقتوں کا ہمارے خلاف اجتماع ہماری صداقت کا روشن ترین ثبوت ہے حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب کی قید سے رہائی کے بعد ا ا جولائی ۱۹۳۷ء کو نیشنل لیگ قادیان نے ان کے اعزاز میں دعوت دی اس موقع پر حضور نے اپنے خطاب میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضور ﷺ تک ہر دور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ازل سے شیطان اور فرشتوں کے درمیان جنگ رہی ہے۔دنیا میں جب بھی حق کی آواز بلند ہوئی اور کسی بھی مأمور کا ظہور ہوا ہمیشہ ان کی شدید مخالفت کی گئی اور کسی ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ شیطان نے مخالفت نہ کی ہو یا اُس نے غلطی سے انبیاء کا ساتھ دیا ہو۔۔