انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxviii of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxxviii

انوار العلوم جلد ۱۴ تعارف کنند کتب ہے اور کسی کو اس کا ختیار نہیں۔اس لئے اگر کوئی خود ہی کسی کو سزا دے تو وہ شخص خود مجرم بن جائے گا اور شریعت کے برخلاف چلنے سے وہ خدا کی ناراضگی کا بھی موجب بنے گا۔فرمایا:۔"جو شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور کسی ذاتی یا جماعتی مخالف پر ہاتھ اُٹھائے گا اُسے میں آئندہ فوراً جماعت سے خارج کر دوں گا۔“ آپ نے جماعت کو بار بار دعا، صبر سے کام لینے ، شریعت کے تابع رہنے اور کامل اطاعت کی طرف توجہ دلائی اور نصیحت کی کہ اپنے بھائیوں کے افعال کی بھی نگرانی کریں کیونکہ جب ایک احمدی غلطی کرتا ہے تو وہ ساری جماعت کی طرف منسوب ہوتی ہے اس قسم کے واقعات خواہ کتنے ہی قلیل ہوں ان سے ہماری جماعت کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔آپ نے فرمایا:۔دو ہمیں تو ایسا نمونہ دکھانا چاہئے جس کی مثال دنیا کے لوگوں میں بالکل ہی نہ ملتی ہو۔پس اے دوستو ! بیدار ہو اور اپنے مقام کو سمجھو اور اُس اطاعت کا نمونہ دکھاؤ جس کی مثال دنیا کے پردہ پر کسی اور جگہ پر نہ ملتی ہو اور کم از کم آئندہ کے لئے کوشش کرو کہ سو میں سے سو ہی کامل فرمانبرداری کا نمونہ دکھا ئیں اور اُس ڈھال سے باہر کسی کا جسم نہ ہو جسے خدا تعالیٰ نے تمہاری حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے اور الاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ پر ایسا عمل کرو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح تم سے خوش ہو جائے۔“ (۲۷) افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۷ء ۲۶ دسمبر ۱۹۳۷ ء کو قادیان میں جلسہ سالانہ کا افتتاح کرتے ہوئے حضور نے احباب جماعت کو ایک بصیرت افروز خطاب سے نوازا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی صفات قابض اور باسط کی لطیف اور پر حکمت تفسیر بیان فرمائی۔فرمایا قبض دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ قبض جب انسان کے ایمان اور عرفان کی حالت میں سکون اور ٹھہراؤ ہومگر کمی نہ ہو تو یہ رحمت والا قبض ہے اور جب انسان محسوس کرے کہ شرعی احکام پر عمل کرنا