انوارالعلوم (جلد 14) — Page 293
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانه رب العزت اے بوڑھو ! جن کو اُن کے بچوں نے چھوڑ دیا ، میں تم کونئی اولادیں دوں گا اور دُور دُور سے دوں گا جو پہلی اولادوں سے بہتر ہوں گی اور اے بچو! جن کو اُن کے ماں باپ نے چھوڑ دیا، میں تم کو نئے ماں باپ دوں گا جو پہلے ماں باپ سے اچھے ہوں گے۔اور اے جوانو ! جن کو ان کے بھائیوں نے چھوڑ دیا، میں تمہارے لئے اور بھائی لا رہا ہوں اُن سے بہتر جو تمہارے بھائی تھے اور ان سے اچھے جو تمہارے بھائی تھے۔سو آپ لوگ جو آج اس موقع پر موجود ہیں، وہ اُن آہوں اور اُس گریہ وزاری کا نتیجہ ہیں جو اس جگہ پر اُن چند لوگوں نے کی تھی جو دنیا داروں کی نگاہ میں متروک اور مطرود تھے اور جن کو دنیا حقیر اور ذلیل سمجھتی تھی۔خدا تعالیٰ نے اُن کو نوازا اور اُن کے آنسوؤں سے ایک درخت تیار کیا جس درخت کا پھل تم ہو۔وہ گٹھلی جس سے یہ درخت پیدا ہوا کتنی شاندار اور عظیم الشان تھی۔اگر اُن اڑھائی سو گٹھلیوں سے آج اتنا وسیع باغ تیار ہو گیا ہے تو اے میرے بھائیو! اگر ہم بھی اُسی اخلاص اور اسی درد سے اسلام کیلئے اپنے آپ کو تیار کریں تو کتنی گٹھلیاں ہیں جو پھر اسلام کے پھیلانے میں نئے سرے سے مدد دے سکتی ہیں۔پس آؤ کہ ہم میں سے ہر س اس نیت اور اس ارادہ سے خدا تعالیٰ کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دے کہ میں اس کی دُنیوی جنت کیلئے ایک کٹھلی اور ایک بیج بن جاؤں گا۔تا میں اکیلا ہی دنیا میں فنا نہ ہو جاؤں بلکہ میری فنا سے ایسا درخت پیدا ہو جسے مجھ سے بہتر یا کم از کم میرے جیسے پھل لگنے لگیں۔وہ اڑھائی تین سو گٹھلیاں آج لاکھوں بن گئی ہیں۔اگر تم بھی اپنے آپ کو اسی طرح قربانیوں کیلئے تیار کر توان لاکھوں گٹھلیوں سے کروڑوں درخت پیدا ہو سکتے ہیں مگر یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا فضل انسان کے شاملِ حال نہ ہو تو نہ انسان کے دل میں قربانی کی تحریک پیدا ہوتی ہے نہ عشق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، نہ ان قربانیوں کا کوئی نیک نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور نہ انسانی عمل کوئی اعلیٰ ثمرات پیدا کرتا ہے۔پس آؤ کہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں اور اُسی سے التجا کریں کہ وہ اپنے فضل اور رحم سے ہمارے دلوں کو پاک کرے اور قربانیوں کا جذبہ ہمارے قلوب میں پیدا کرے۔پھر جب اُسی کے فضل سے ہم اپنی قربانیاں اُس کے حضور پیش کریں تو وہ شفقت اور محبت اور رحم سے ہماری ناچیز قربانیوں کو رڈ نہ کرے بلکہ قبول کرے۔وہ ہمارے وجودوں، ہمارے عزیزوں، ہمارے رشتہ داروں اور ہمارے دوستوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ کی حفاظت کیلئے قربانی کے طور پر قبول کرے اور اسلام