انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 294

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانه رب العزت کے باغ کو پھر سرسبز اور شاداب کر دے۔وہ کوے اور کوئلیں اور دوسرے جانور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ کے ثمرات کھا رہے اور انہیں خراب کر رہے ہیں ، خدا اس بلا ء اور و با سے اسلام کو بچائے۔آج شرک اور کفر نے دنیا پر غلبہ کیا ہوا ہے خدا اپنے فضل سے ہمیں توفیق دے کہ ہم پھر تو حید کا جھنڈا کھڑا کریں، شرک دنیا سے مٹ جائے ، شرک کرنے والے خدا تعالیٰ کی تو حید کے جھنڈے کے نیچے آجائیں ، وہ قو میں جو خدا تعالیٰ کے بیٹے بنا رہی ہیں ، وہ قو میں جو پتھروں کو گھڑ گھڑ کر انہیں خدا تعالیٰ کا شریک قرار دے رہی ہیں، وہ بُھولی ہوئی قو میں جو خدا تعالیٰ کی رحمت کے منادوں کو اُس کا شریک ٹھہرا رہی ہیں، وہ قو میں جو سورج اور چاند اور سیاروں اور ستاروں کی پرستش کرتی ہیں ، خدا تعالیٰ ان سب کے دلوں کو کھول دے اور اُس حقیقی خدا کی طرف انہیں لے آئے جس کی شان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا پر ظاہر کی ، وہ اُن سینکڑوں دلوں میں جو مذہب سے بیزار ہورہے ہیں مذہب کا جوش پیدا کرے، وہ فلسفی اور وہ عالم کہلانے والے جو آج دین اور ایمان سے بے بہرہ ہو رہے ہیں ، خدا تعالیٰ ان پر بھی رحم کرے اور معرفت کا نور ان کے دلوں میں پیدا کرے۔تا آج جس طرح وہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کے دین سے منحرف کر رہے ہیں، گل لوگوں کو کھینچ کھینچ کر دین حقیقی کی طرف لائیں۔وہ جھگڑے، فساد اور لڑائیاں جو کہیں مذہب کے نام پر، کہیں قوم کے نام پر، کہیں جتھے کے نام پر اور کہیں سیاست کے نام پر ہو رہی ہیں، خدا تعالیٰ ان کو دُور کر کے بنی نوع انسان کی بہتری کے سامان پیدا کرے اور خدا تعالیٰ اس دنیا کو اُسی طرح جنت کر دے جس طرح اُس نے مرنے کے بعد ہمارے لئے جنت تیار کی ہے۔یہ سب کام خدا تعالیٰ کے پسندیدہ ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ انہیں دنیا میں قائم کرے مگر ہمارے اندر طاقت نہیں کہ ہم با وجود اللہ تعالیٰ کا سپاہی کہلانے کے ان کو قائم کر سکیں۔ایسی مصیبت کے وقت صرف ایک ہی کام ہمارا ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنے رب کو بلائیں اور اُس سے کہیں کہ ہم تیرے غلام اور خادم ہیں تو نے ایک کام ہمارے سپرد کیا ، ہم اس کام کو کرنے کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ تو ہمیں توفیق دے لیکن اے ہمارے خدا! یہ کام ہماری ہمت اور ہماری طاقت سے بہت بالا ہے۔پس تو آپ ہماری مدد کر۔ہم اس بوجھ سے کچلے جارہے ہیں۔اگر تو نہ آیا اور تو نے مدد نہ کی تو یہ چھوٹی سی جماعت اور فِئَةٌ قَلِيلَةٌ مٹ جائے گی اور دنیا کے پردہ پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا۔پس تو آپ ہم پر رحم کر، ہماری کمزوریوں سے درگذر فرما تا تیری یہ عطا کردہ توفیق سے بغیر کسی قسم کے معاوضہ کی خواہش اور بغیر کسی دشمن کے خوف کے