انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 292

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانه رب العزت بھی اُٹھا کر کچھ اور دُور وہ بچھائی گئی۔اپنی بچپن کی عمر کے لحاظ سے میں نہیں کہہ سکتا آیا ان جمع ہونے والوں کو لوگ روکتے تھے اور کہتے تھے کہ تمہارا حق نہیں کہ اس جگہ دری بچھا دیا کوئی اور وجہ تھی۔بہر حال مجھے یاد ہے کہ دو تین دفعہ اس دری کی جگہ بدلی گئی۔لوگ کہتے ہیں جب یوسف مصر کے بازار میں پکنے کیلئے آئے تو ایک بڑھیا بھی دوڑوئی کے گالے لیکر پہنچی کہ شاید میں ہی ان گالوں سے یوسف کو خرید سکوں۔دنیا دار لوگ اس واقعہ کو سنتے ہیں اور ہنستے ہیں، روحانی لوگ اسے سنتے ہیں اور روتے ہیں کیونکہ ان کے قلوب میں فوراً یہ جذ بہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جہاں کسی چیز کی قدر ہوتی ہے، وہاں انسان دنیا کی ہنسی کی پروا نہیں کرتا۔مگر میں کہتا ہوں یوسف ایک انسان تھا اور اُس وقت تک یوسف کی قابلیتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں ، آخر اُس کے بھائیوں نے نہایت ہی قلیل قیمت پر اسے فروخت کر دیا تھا، ایسی حالت میں اگر اس بڑھیا کو یہ خیال آیا ہو کہ شاید روئی کے دوگالوں کے ذریعہ ہی میں یوسف کو خرید سکوں تو یہ کوئی بعید بات نہیں۔خصوصاً جب ہم اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جس ملک سے یہ قافلہ آیا تھا، وہاں کوئی نہیں ہوا کرتی تھی اور وہ مصر سے ہی روئی لے جایا کرتے تھے تو پھر تو یہ کوئی بھی بعید بات معلوم نہیں ہوتی کہ روئی کی قیمت اُس وقت بہت بڑھی ہوئی ہو۔اور وہ بڑھیا واقعہ میں یہ بجھتی ہو کہ روئی سے یوسف کو خریدا جاسکتا ہے لیکن جس قیمت کو لے کر وہ لوگ جمع ہوئے تھے وہ یقیناً ایسی ہی قلیل تھی اور یہ یوسف کی خریداری کے واقعہ سے زیادہ نمایاں اور زیادہ واضح مثال اُس عشق کی ہے جو انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان سے ایسی ایسی قربانیاں کراتا ہے جن کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔وہ دوسو یا اڑھائی سو آدمی جو جمع ہوا اُن کے دل سے نکلے ہوئے خون نے خدا تعالیٰ کے عرش کے سامنے فریاد کی۔بے شک ان میں سے بُھوں کے ماں باپ زندہ ہوں گے، بے شک وہ خود اس وقت ماں باپ یا دادے ہوں گے مگر جب دنیا نے ان پر جنسی کی ، جب دنیا نے انہیں چھوڑ دیا ، جب اپنوں اور پرایوں نے انہیں الگ کر دیا اور کہا کہ جاؤ اے مجنونو ! ہم سے دُور ہو جاؤ۔تو وہ باوجود بڑے ہونے کے یتیم ہو گئے کیونکہ یتیم ہم اُسے ہی کہتے ہیں جو لا وارث ہو اور جس کا کوئی سہارا نہ ہو۔پس جب دنیا نے انہیں الگ کر دیا تو وہ یتیم ہو گئے اور خدا کے اِس وعدہ کے مطابق کہ یتیم کی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے، جب وہ قادیان میں جمع ہوئے اور سب یتیموں نے مل کر آہ وزاری کی تو اُس آہ کے نتیجہ میں وہ پیدا ہوا جو آج تم اس میدان میں دیکھ رہے ہو۔خدا نے عرش پر سے انہیں دیکھا اور کہا