انوارالعلوم (جلد 14) — Page 513
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ہونگی۔پس چھوٹی سے چھوٹی روایت بھی اگر کسی دوست کو معلوم ہو تو وہ اُسے بتانی چاہئے۔اسی طرح مرکزی محکمہ کو اس بات کا انتظام کرنا چاہئے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کہاں کہاں ہیں اور ان سے چھوٹی سے چھوٹی بات جمع کی جائے۔ان روایات میں بے شک بعض ایسی باتیں بھی ہو سکتی ہیں جنہیں موجودہ وقت میں شائع کرنا مناسب نہ ہومگر انہیں بھی بہر حال محفوظ کر لیا جائے اور بعد میں جب مناسب موقع ہو انہیں شائع کر دیا جائے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا تھا کہ :۔سلطنت برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں ایام و ضعف اختلال مگر یہ الہام اُس وقت شائع نہ کیا گیا بلکہ ایک عرصہ کے بعد شائع کیا گیا۔ایسے واقعات کو ریکارڈ میں لے آیا جائے مگر شائع اُس وقت کیا جائے جب خطرے کا وقت گذر جائے۔پس صحابہ کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے تمام واقعات اور حالات لکھ کر بھیج دیں یا اس موضوع پر لیکچر کر کے دوسروں کو حالات بتا دیں میں سمجھتا ہوں اب بھی وقت ہے کہ اس کام کو مکمل کیا جائے۔جو دوست اس کام میں حصہ لے سکیں انہیں اس ثواب سے محروم نہیں رہنا چاہئے اور جیسا کہ بتایا ہے دوست اس میں اس طرح شامل ہو سکتے ہیں کہ:۔(۱) مرکزی محکمہ اس بات کا انتظام کرے۔(۲) صحابہ، ناظر تعلیم کو حالات لکھ کر بھجوادیں یا یہاں اپنے حالات پر لیکچر دیں۔(۳) تیسرے وہ دوست جو صحابی نہیں اُن صحابہ جن کو لکھنا نہیں آتا یا جن کو فرصت نہیں سے پوچھ پوچھ کر اور گرید گرید کر حالات دریافت کریں اور خود وہ حالات لکھ کر مرکز میں بھجوا دیں۔مثلا یہ کہ آپ کا کھانا کیسا تھا؟ آپ کا پینا کیسا تھا ؟ آپ کا لباس کیسا تھا ؟ آپ کی گفتگوکیسی تھی ؟ آپ کا چلنا کیسا تھا؟ غرض یہ تمام باتیں ان سے پوچھ پوچھ کر خود لکھتے جائیں اور یہاں بھجواتے جائیں اس طرح وہ بھی راوی بن جائیں گے اور انہیں بہت کچھ نواب حاصل ہو گا۔امام بخاری کی آج دنیا میں کتنی بڑی عزت ہے مگر یہ عزت اسی لئے ہے کہ انہوں نے دوسروں سے روایات جمع کیں۔پس جو صحابہ ان پڑھ ہیں یا جنہیں فرصت نہیں اُن سے مل کر اور دریافت کر کے اگر تم حالات لکھتے چلے جاؤ تو کسی زمانہ میں تمہاری بھی ایسی ہی عزت وعظمت ہونے لگ جائے گی جس طرح آج ثعبان ثوری وغیرہ کی ہوتی ہے اور لوگ تم پر درود اور سلام بھیجیں گے