انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 514

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر اور کہیں گے اللہ تعالیٰ فلاں کو جزائے خیر دے کہ اس نے اتنی قیمتی بات ہم تک پہنچا دی۔میں نے دیکھا ہے کہ قدرتی طور پر ایسے مواقع پر از خود دعا کیلئے جوش پیدا ہوتا ہے۔گل ہی کلید قرآن سے میں ایک حوالہ نکالنے لگا تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ یہ آیت دیر سے ملے گی مگر اس کلید قرآن سے مجھے فوراً آیت مل گئی۔اس پر میں نے دیکھا کہ دو تین منٹ نہایت خلوص سے میں اس کے مرتب کیلئے دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اس کے مدارج بلند کرے کہ اُس کی محنت کی وجہ سے آج مجھے یہ آیت اتنی جلدی مل گئی۔تو اب اگر لوگوں کیلئے صحابی بننے کا موقع نہیں تو کم از کم وہ تابعی ہی بن جائیں تا آئندہ جب لوگ ان کی روایات پڑھیں تو کہیں اللہ تعالیٰ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے ہمارے لئے ان باتوں کو محفوظ کر دیا۔(۴) اور جو اتنا کام بھی نہ کر سکتے ہوں وہ کم از کم یہ کریں کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کبھی بھی صحبت اُٹھائی ہو ان صحابہ کے پتوں سے دفتر کو اطلاع دے دیں۔اگر انہیں علم ہو کہ فلاں شخص صحابی ہے اور وہ ابھی فلاں جگہ زندہ موجود ہے ہمیں اطلاع دے دیں اور لکھ دیں کہ ہم تو سُست ہیں اور اُس کے پاس پہنچ کر حالات جمع کرنے سے قاصر ، آپ اگر چاہیں تو اُن سے حالات پوچھ لیویں اس پر ہم خود اُن سے حالات دریافت کرنے کی کوشش کریں گے۔اس کے ساتھ ہی مرکزی دفتر کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جو حالات اور واقعات اس کے پاس جمع ہوں وہ ضائع نہ ہوں ان کی حفاظت کا خاص انتظام ہو۔پچھلے سالوں میں یہاں ہو۔ذکر حبیب پر جلسے ہوتے رہے ہیں مگر ان جلسوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں غالباً وہ بھی محفوظ نہیں۔ہمارا ہر سال تین لاکھ کا بجٹ تیار ہوتا ہے مگر تالیف و تصنیف کا محکمہ اس میں پندرہ روپیہ کا کلرک نہیں رکھ سکتا جس کا کام محض یہ ہو کہ وہ ان واقعات کو محفوظ ر کھے اور جیسے پرانے زمانہ میں کتابوں کی نقلیں کی جایا کرتی تھیں اسی طرح تمام واقعات کی پانچ سات نقلیں کر کے ہر نسخہ ایک ایک دفتر میں محفوظ کر دیا جائے اور پھر ایسے واقعات کو ساتھ ساتھ اخبارات میں بھی شائع کرانے کی کوشش کی جائے تا کہ جلد سے جلد یہ ریکارڈ میں آجائیں اور ایک ایک واقعہ کی ہزاروں کا پیاں ہو جائیں کوئی ایک اخبار یا رسالہ اس کے لئے مخصوص نہ کیا جائے۔ایک بات میں تحریک جدید کے متعلق کہنا چاہتا ہوں اب تحریک جدید کا دوسرا دور شروع ہے اور میں اس تحریک کے ابتدا سے ہی دوستوں کو یہ کہتا چلا آیا ہوں کہ مذہبی سلسلوں میں کوئی قربانی