انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 361

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) نے نصیحت فرمائی ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ۳۹ے یعنی اے وہ لوگو! جن میں نیکی کی قابلیت تو ہے مگر تم ابھی انڈے کی حد تک ہی ہو پرندے نہیں بنے تم کسی صادق کے پروں کے نیچے چلے جاؤ تم تھوڑے دنوں میں ہی پرندے بن جاؤ گے۔تَشَابَة الخَلْقُ کے الفاظ پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ایک دفعہ حضرت ایک لطیفہ مسیح موعود علیہ السلام نے اسی آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی مولوی کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے جو پرندے بنائے تھے وہ کہاں چلے گئے؟ آپ کا مطلب یہ تھا کہ ممکن ہے اس کا ذہن اس طرف چلا جائے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی پرندے بنائے ہیں اور خدا نے بھی تو پھر تو تشابه فِي الْخَلْق ہو گیا اور یہ قرآن کے خلاف ہے کہنے لگا کہ دوچے ہی رل مل گئے ہیں۔ترتیب مضامین کے لحاظ سے غور اب میں بتاتا ہوں کہ خود یہی آیت اُن معنوں کو ر ڈ کرتی ہے جو عام لوگ لیتے ہیں۔یہ ساری آیت یوں ہے حضرت مسیح فرماتے ہیں۔انى قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ أَنِّي اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَانْفُخُ فِيْهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَابْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَأحْيِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللهِ وَانَبِّئُكُمْ بِمَاتَا كُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ) اس آیت کی ترتیب اپنے مدنظر رکھ لو اور پھر سوچو کہ آیا پرندے بنانے والے معنی کسی صورت میں بھی یہاں چسپاں ہو سکتے ہیں؟ یہ صاف بات ہے کہ قرآن کریم کا کوئی لفظ ترتیب سے خالی نہیں۔فرض کرو ہم مان بھی لیں کہ اس جگہ پرندہ سے مراد پرندہ بنانا ہی ہے تو دیکھنا یہ چاہئے کہ ان معنوں کو تسلیم کر لینے کے بعد اس آیت میں کوئی ترتیب بھی پائی جاتی ہے یا نہیں ؟ بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس آیت میں کوئی ترتیب نہیں مگر ہم اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ اس میں ترتیب ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ آیت دو جگہوں میں آتی ہے ایک سورۃ ال عمران میں اور دوسرے سورۃ مائدہ میں اور دونوں جگہ الفاظ اسی ترتیب سے رکھے گئے ہیں۔اب دونوں جگہ ان الفاظ کا اسی ترتیب سے رکھا جانا بتاتا ہے کہ اس میں کوئی خاص مقصد ہے۔ہم تو قرآن کریم کی ہر آیت میں ترتیب کے قائل ہیں مگر جو لوگ اس کے قائل نہیں انہیں بھی اگر کسی اور جگہ نہیں تو اس جگہ ترتیب ضرور ماننی پڑتی ہے کیونکہ پہلے خَلْقِ طَيْر کا ذکر ہے پھر اکمہ کا ذکر ہے پھر ابرص کا اور پھر