انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 362

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (1) إِحْيَانَی مَوتی کا۔اور ان کا ذکر ایک جگہ نہیں بلکہ دونوں جگہ اسی ترتیب سے کیا گیا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ترتیب میں دو باتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔کبھی چھوٹی بات پہلے بتائی جاتی ہے پھر اُس سے بڑی بات بتائی جاتی ہے اور پھر اُس سے بڑی۔اور کبھی پہلے سب سے بڑی بات بتائی جاتی ہے پھر اُس سے چھوٹی بات بتائی جاتی ہے اور پھر اُس سے چھوٹی اور ان دونوں ترتیبوں میں مخاطب کا فائدہ مد نظر رکھا جاتا ہے۔یعنی جس رنگ میں وہ آسانی سے سمجھ سکتا ہو اُسی رنگ میں بات بیان کر دی جاتی ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ معنی کئے جائیں جو ہمارے مخالف لیتے ہیں تو ان معنوں میں کوئی ترتیب ہی نظر نہیں آتی۔کیونکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں پہلے سب سے بڑی بات کو بیان کیا گیا ہے اور پھر اس سے چھوٹی بات کو اور پھر اس سے چھوٹی بات کو تو اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ سب سے بڑی چیز پرندوں کا پیدا کرنا ہے۔اس سے اُتر کر اندھوں کو آنکھیں بخشا۔اس سے اُتر کر کوڑھیوں کو اچھا کرنا اور اس سے اتر کر مُردوں کو زندہ کرنا۔حالانکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ مُردہ زندہ کرنا سب سے بڑی بات ہے۔پس یہ ترتیب صحیح نہیں ہو سکتی اور اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ پہلے سب سے چھوٹی بات کو بیان کیا گیا ہے اور پھر اس سے بڑی بات کو اور پھر اس سے بڑی بات کو تو اس کے یہ معنی بنتے ہیں کہ سب سے آسان کام دنیا میں پرندے بنانا ہے۔اس سے مشکل کام اندھوں کو آنکھیں دینا ہے۔اس سے مشکل کام کوڑھی کو اچھا کرنا ہے اور اس سے مشکل کام مُردے زندہ کرنا ہے۔گویا اس صورت میں سب سے آسان تر بات پرندے بنانا ٹھہرتی ہے۔اب اگر یہ درست ہے تو کوئی مولوی ہمیں دو چار پرندے ہی بنا کر دکھا دے۔دوسری مشکل ان معنوں میں یہ پیش آتی ہے کہ قرآن کریم نے ایک اور جگہ احیائے موتی کو ادنی اور پیدائش کو اعلیٰ قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ - قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ - اسے یعنی انسان کا یہ طریق ہے کہ وہ ہماری ہستی کے متعلق باتیں بنانے لگ جاتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے اور کہنے لگتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی تو پھر ان کو کون زندہ کرے گا ؟ فرماتا ہے تم احیائے موتی کا انکار اسی لئے کرتے ہو کہ تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ہڈیاں گل سڑ کر پھر کس طرح اصل شکل وصورت میں آ جائیں گی۔حالانکہ جب اُس نے تمہیں ایک دفعہ پیدا کیا ہے تو دوسری دفعہ پیدا کرنا اُس کے لئے کیا مشکل