انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 360

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) رکھتے ہیں ان کے متعلق ایسا عقیدہ رکھنا محض بہتان ہے۔جس قسم کی پیدائش خدا تعالیٰ کرتا ہے اُس قسم کی پیدائش اور کوئی نہیں کر سکتا۔اب اگر یہ مانا جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ میں پرندے پیدا کیا کرتے تھے تو سورۃ رعد کی یہ آیت غلط ہو جاتی ہے اور اگر یہ آیت کچی ہو تو لازماً ماننا پڑے گا کہ خَلْقِ طیر کے وہ معنی غلط ہیں جو عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں اور ماننا پڑے گا کہ یہ کوئی استعارہ ہے۔تبھی یہ آیتیں آپس میں متضاد نظر آتی ہیں اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی کیا تشریح ہے ؟ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ کا مفہوم ہو اس کی تشریح کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید میں كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ کے الفاظ آتے ہیں اور اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح پرندہ بچے پیدا کیا کرتا ہے اسی طرح میں بھی کرتا ہوں۔مگر لوگوں نے غلطی سے اس کے یہ معنی سمجھ لئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔اب یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ پرندہ پہلے انڈے لیتا ہے پھر اس پر بیٹھتا اور انہیں گرمی پہنچا تا ہے تب ان سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں بھی ایسے لوگوں کو جن کی مٹی میں الہام کا پانی شامل ہو اپنی صحبت میں لیتا ہوں اور اپنے بازوؤں کے نیچے رکھ کر ایسی روحانیت ان میں پیدا کر دیتا ہوں کہ تھوڑے ہی دنوں میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف پرواز کرنے لگ جاتے ہیں۔اب دیکھو قرآن کریم کا مضمون کتنا بلند ہو گیا اور اس کے معنی کیسے اعلیٰ ہو گئے۔وہ بھی کیا معنی تھے کہ آپ چمگادڑیں بناتے پھرتے تھے۔اور پھر قرآن میں حضرت مسیح نے کہیں نہیں فرمایا کہ میں پرندے بناتا ہوں بلکہ آپ یہ فرماتے ہیں کہ میں كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بناتا ہوں یعنی جس طرح پرندہ انڈوں کو سیتا ہے اسی طرح میں بھی لوگوں کو اپنی تربیت میں لیتا ہوں اور جن میں ترقی کی قابلیت ہوتی ہے وہ اُڑنے لگ جاتے ہیں۔پھر زیادہ سے زیادہ پرندے چالیس دن تک انڈوں کو سیتے رہتے ہیں بلکہ بعض تو اس سے بھی کم عرصہ میں پیدا ہو جاتے ہیں۔اور غالباً اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اعلان کیا کہ جو شخص میرے معجزات کا منکر ہو، وہ چالیس دن میرے پاس رہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور کوئی نہ کوئی معجزہ دکھا دے گا۔اب جو شخص فطرت صحیحہ رکھتا ہے وہ تو بہت جلد نبی کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے مگر جس طرح سخت چھلکے کا انڈا چالیس دن لیتا ہے اسی طرح نبی کی صحبت میں اگر کوئی سخت دل انسان بھی چالیس دن رہے تو وہ کوئی نہ کوئی معجزہ دیکھ لیتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم