انوارالعلوم (جلد 14) — Page 319
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (۶) مٹی ڈالو۔مطلب یہ تھا کہ چھوڑو اور اُنہیں کچھ نہ کہو خود ہی رو دھو کر خاموش ہو جائیں گی۔مگر اُس کو خدا دے اُس نے اپنی چادر میں مٹی بھر لی اور اُن عورتوں کے سروں پر ڈالنی شروع کر دی۔انہوں نے کہا پاگل کیا کرتا ہے؟ وہ کہنے لگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مٹی ڈالو۔اس لئے میں تو ضرور ڈالوں گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اُسے ڈانٹا اور فرمایا تو بات کو تو سمجھا ہی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا تو یہ تھا کہ ان کا ذکر چھوڑو اور جانے دو۔سے وہ خود ہی خاموش ہو جائیں گی۔یہ مطلب تو نہیں تھا کہ تم مٹی ڈالنا شروع کر دو۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایک استعارہ کلام تھا مگر وہ واقعہ میں مٹی ڈالنے لگ گیا۔تو بعض دفعہ لوگ استعارہ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔اور بعض دفعہ لفظی معنے ایسے لے لیتے ہیں جو حقیقت کے خلاف ہوتے ہیں اور اس طرح بات کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔خيط ابیض اور حیط اسود کا غلط مفہوم میں نے یہ عرب کی مثال آپ لوگوں کے سامنے پیش کی ہے اب میں پنجاب کی ایک مثال دے دیتا ہوں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ سحری کا وقت اُس وقت تک ہے جب تک سفید دھاگا سیاہ دھاگا سے الگ نظر نہیں آتا۔یہ ایک استعارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک پو پھٹ نہ جائے کھاتے پیتے رہو۔مگر پنجاب میں بہت سے زمیندار رمضان کی راتوں میں سفید اور سیاہ دھاگا اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور چونکہ دھا گا اچھی روشنی میں نظر آتا ہے اس لئے وہ دن چڑھے تک خوب کھاتے پیتے رہتے ہیں۔اب یہ اسی استعارہ کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے اور چونکہ بعض لوگوں کی نگاہ نسبتا کمزور ہوتی ہے اس لئے ممکن ہے وہ دن چڑھنے کے بعد بھی اس آیت کی رُو سے کھانے پینے کا جواز ثابت کر لیں کیونکہ انہیں سورج کی روشنی میں ہی اس فرق کا پتہ لگ سکتا ہے۔ہمارے ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب جب اپنے طالب علمی کے زمانہ میں لا ہور پڑھتے تھے تو ایک احمدی دوست کے گھر پر رہتے تھے۔رمضان کے دن تھے۔ایک رات انہوں نے یہ خیال کر کے کہ یہ بچہ ہے اُسے کیا جگانا ہے روزے کیلئے نہ جگایا مگر میر صاحب کو جیسا کہ بچوں کا عام طریق ہے روزے رکھنے کا بڑا شوق تھا۔اُن کی آنکھ ایسے وقت میں کھلی جب کہ سحری کا وقت گذر چکا تھا اور روشنی پھیل گئی تھی۔ادھر گھر کے مالک کو خیال آیا کہ ان کا دل میلا ہوگا انہیں روٹی کھلا دینی چاہئے۔چنانچہ میر صاحب دروازہ کھولنے لگے تو وہ کہنے لگا ہیں ! ہیں! کھولنا نہیں روشنی آئے گی میں اندر سے کھانا پکڑا دیتا ہوں۔