انوارالعلوم (جلد 14) — Page 318
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہؓ کو سالا لشکر بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ اگر زید مارے جائیں تو جعفر بن ابی طالب کمان لے لیں اور اگر جعفر مارے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ کمان لے لیں تو جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ویسا ہی وقوع میں آیا اور حضرت زیدا ور حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ تینوں شہید ہو گئے اور حضرت خالد بن ولید لشکر کو اپنی کمان میں لے کر بحفاظت اُسے واپس لے آئے۔جس وقت مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو جن عورتوں کے خاوند مارے گئے تھے یا جن والدین کے بچے اس جنگ میں شہید ہوئے تھے اُنہوں نے جس حد تک کہ شریعت اجازت دیتی ہے رونا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اظہار افسوس کیلئے نہ اس لئے کہ عورتیں جمع ہو کر رونا شروع کر دیں فرمایا۔جعفر پر تو کوئی رونے والا نہیں۔میرے نزدیک اس فقرہ سے آپ کا یہ منشا ہر گز نہیں تھا کہ کوئی جعفر کو روئے بلکہ مطلب یہ تھا کہ ہمارا بھائی بھی آخر اس جنگ میں مارا گیا ہے جب ہم نہیں روئے تو تمہیں بھی صبر کرنا چاہئے۔کیونکہ حضرت جعفر کے رشتہ دار وہاں یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے یا حضرت علی تھے اور یہ جس پایہ کے آدمی تھے اس کے لحاظ سے ان کی چینیں نہیں نکل سکتی تھیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غالبا اس بات کے اظہار کیلئے کہ میرا بھائی جعفر بھی مارا گیا ہے مگر میں نہیں رویا فرما یا جعفر پر تو کوئی رونے والا نہیں۔انصار نے جب یہ بات سنی تو چونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو پورا کرنے کا بے حد شوق رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے اپنے گھر جا کر عورتوں سے کہنا شروع کیا کہ یہاں رونا دھونا چھوڑو اور جعفر کے گھر چل کر روؤ۔چنانچہ سب عورتیں حضرت جعفر کے گھر میں اکٹھی ہو گئیں اور سب نے ایک گہرام مچا دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آواز سنی تو فرمایا کیا ہوا ؟ انصار نے عرض کیا۔یا رسول اللہ اللہ آپ نے جو فر مایا تھا کہ جعفر" پر کوئی رونے والا نہیں اس لئے ہم نے اپنی عورتیں حضرت جعفر کے گھر بھیج دی ہیں اور وہ رو رہی ہیں۔آپ نے فرمایا۔میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔جاؤ انہیں منع کرو۔چنانچہ ایک شخص گیا اور اُس نے انہیں منع کیا۔وہ کہنے لگیں تم ہمیں کون روکنے والے ہو ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آج افسوس کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جعفر کو رونے والا کوئی نہیں اور تو ہمیں منع کرتا ہے۔وہ یہ جواب سن کر پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔کیونکہ بعض لوگوں کو دوسروں کی ذرا ذرا سی بات پہنچانے کا شوق ہوتا ہے اور عرض کیا وہ مانتی نہیں۔آپ نے فرمایا۔اُن کے سروں پر