انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxix of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxix

انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۳ تعارف کت آپ نے مختلف واقعات اور مثالوں کے ذریعہ ثابت فرمایا کہ عموماً دعا ، تو کل اور تبلیغ تینوں چیزیں اکٹھی چلتی ہیں۔(۱۹) حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل لمصلہ حضرت امصلح الموعود کا یہ مضمون ۲۰ دسمبر ۱۹۳۶ء کا تحریر فرمودہ ہے۔یہ مضمون آپ کی سیاسی بصیرت اور غیر معمولی ذہانت و فراست کا ثبوت ہے۔ہوا یوں کہ ۱۹۳۶ ء میں انگلستان کے مشہور بادشاہ ایڈورڈ ہشتم بادشاہت سے دست بردار ہو گئے۔عموماً اخبارات میں ان کی معزولی کی وجہ ایک عورت بتائی جانے لگی جس کی خاطر انہوں نے بادشاہت چھوڑ دی۔ایڈیٹر صاحب الفضل نے ۱۴ دسمبر ۱۹۳۶ ء کے افتتاحیہ میں تحریر فرمایا کہ بادشاہ نے ایک عورت کی خاطر ملک کی بادشاہت کو چھوڑ کر قابل تعریف کام نہیں کیا۔بادشاہ کو مجبور اور قابل ہمدردی تو سمجھا جا سکتا ہے لیکن وہ ایثار اور قربانی کرنے والے قرار نہیں دیئے جاسکتے۔حضور نے واقعات اور وجوہات بیان فرما کر اس تاثر کو غلط ثابت فرمایا اور اصل حقائق سے پردہ اُٹھایا۔حضور نے بتایا کہ مسٹر سمپسن جے کو اس واقعہ میں خاص شہرت ملی کہ بادشاہ کے ساتھ کافی عرصہ سے تعلقات تھے۔وہاں کا حکام طبقہ، مذہبی طبقہ اور عوام الناس بھی اسے جانتے تھے۔یہ خاتون با قاعدہ شاہی دعوتوں میں بلائی جاتی تھی۔اخبارات میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی تھیں کہ مسز سمپسن اپنے شوہر سے طلاق لے کر بادشاہ سے شادی کر لیں گی۔اُس وقت بادشاہ کی مخالفت کہیں سے بھی نہیں ہوئی۔فرمایا کہ اصل حقیقت یہ تھی کہ بادشاہ عیسائیت کی بعض رسموں سے اختلاف رکھتے تھے اور پادریوں کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری کو نا پسند کرتے تھے۔بقول کرنل وجوڈ کے بادشاہ پوری طرح عیسوی مذہب کے قائل نہ تھے چونکہ انگلستان کا بادشاہ Defender of Faith کہلاتا تھا اس لئے پادریوں کیلئے یہ صورتحال ناقابلِ برداشت تھی اس لئے وہ اندر ہی اندر اس کے خلاف تھے اور اس ناراضگی کے اظہار کا موقع انہیں اب ملاجب بادشاہ نے ایک مطلقہ سے شادی کی۔بادشاہ کا مؤقف اصول پر مبنی تھا کہ چونکہ گورنمنٹ کے قانون کے تحت خاتون کو طلاق ہوئی ہے۔اس لئے اُس سے شادی کرنے کا قانونی حق ہے۔ملک کی اکثریت بادشاہ کے ساتھ تھی