انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxviii
انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۲ تعارف کنند کتب تحریک جدید کی اغراض تمہیں سمجھا ئیں۔تم تحریک جدید کے حامل ہو اور تمہارا فرض ہے کہ تحریک جدید پر نہ صرف خود عمل کرو بلکہ دوسروں سے بھی کراؤ“۔(۱۸) ایک رئیس سے مکالمہ یکم نومبر ۱۹۳۶ء کو ایک مسلمان رئیس حضور سے ملاقات کیلئے قادیان آئے۔ملاقات کے دوران میں انہوں نے حضور کی خدمت میں اپنے چند سوال پیش کئے حضور نے ان کی تسلی کے لئے وضاحت سے جواب عنایت فرمائے۔انہوں نے پہلا سوال یہ کیا کہ جماعت احمد یہ کوئی مذہبی جماعت نہیں اور دُنیوی طور پر اس نے جس قدر ترقی کرنی تھی کر چکی ہے مزید ترقی نہیں کر سکتی۔حضرت مصلح موعود نے محققانہ رنگ میں جواب دیا اور واقعات کے ذریعہ ثابت فرمایا کہ جماعت احمدیہ کی ترقی کوئی عام دنیاوی ترقی نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی وجہ سے ہے اور فرمایا کہ:۔احمدیت کی اصل ترقی تو روحانیت یا معارف و حقائق کی ترقی ہے۔لیکن کمزور لوگوں کیلئے خدا تعالیٰ نے اس کو دنیوی ترقی بھی دی ہے اور دے گا۔لیکن دنیوی ترقی اس کا اصل مقصود نہیں“۔نیز فرمایا کہ:۔”ہمارا تو ایمان ہے کہ دنیا کی تمام بادشاہتیں ہمیں ملیں گی لیکن ہمارا اصل مقصود دین ہے۔غیر احمدی رئیس کا دوسرا سوال یہ تھا کہ تبلیغ کی ضرورت نہیں ہے اگر آپ حق پر ہیں تو دعا کریں آپ کی دعا اگر قبول ہوگئی تو مجھے خود بخود کھینچ لے گی۔حضور نے نہایت تفصیل سے اس کے ان خیالات کی غلطیوں پر روشنی ڈالی اور تبلیغ کی ضرورت و فرضیت اور دعا کی حقیقت اور توکل کے مقام پر نہایت پر معارف روشنی ڈالی اور ان کا با ہم تعلق بیان فرمایا۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کا خود حکم دیا ہے۔دعا کے تعلق میں فرمایا:۔دعا بھی وہی تبلیغ کی قائمقام ہو سکتی ہے جس میں کامل انابت الی اللہ ہو۔دعا در حقیقت کامل انابت الی اللہ کا ہی نام ہے۔