انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxx
انوارالعلوم جلد ۱۴ ۲۴ تعارف کتب البتہ کیتھولک کی متشددا قلیت اس کے خلاف تھی اور پادری اسے ہوا دے رہے تھے۔جس سے ملک میں فساد ہونے کا خطرہ تھا۔اس صورتحال میں بادشاہ کے لئے دو راستے تھے۔یا تو وہ پادریوں کے دباؤ میں آجاتا اور اپنا قانونی حق استعمال نہ کرتا اور محض اس لئے اُس عورت سے وعدہ پورا نہ کرتا کہ وہ مطلقہ ہے یا پھر شادی کر لیتا جس کی قانون اجازت دیتا تھا تا ہم اس سے ملک میں فساد ہونے کا اندیشہ تھا۔اس صورتِ حال میں بادشاہ نے بہترین فیصلہ کیا کہ ایک طرف اصولی موقف اختیار کیا اور دوسری طرف ملک کو فساد سے بچانے کیلئے اپنے تخت کی قربانی دے دی۔حضور نے یہ تجزیہ پیش کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کا ذکر فر مایا کہ مسیح موعود کے زمانے میں عیسائیت آپ ہی آپ پھل جائے گی اور بتایا کہ کس شان سے یہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے کہ مسیحیت کی نمائندہ حکومت جس کے بادشاہ کو محافظ عیسائیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے میں ایسے تغیرات پیدا ہو رہے ہیں کہ اس کے مقبول بادشاہ نے مسیحیت کی بعض رسوم ادا کرنے سے اس وجہ سے انکار کر دیا کہ وہ ان کی ضمیر کی آواز کے خلاف تھی اور اس اعتراض کا بھی ازالہ ہوا کہ اسلام نے طلاق کو جائز قرار دیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے مطلقہ عورت سے شادی کی ہے۔پس انقلاب انگلستان اسلام کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے۔(۲۰) جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانہ رب العزت پر گریہ و بکا کرنے کا نتیجہ ہے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا یہ مختصر سامگر نہایت ولولہ انگیز اور روح پرور خطاب ہے جو آپ نے ۲۶ دسمبر ۱۹۳۶ء کو جلسہ سالانہ قادیان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا:۔حضور نے ۴۰ سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور کے ایک جلسہ کا ذکر نہایت درد بھرے الفاظ میں کیا اور فرمایا کہ اس میں دو اڑھائی سو احباب شامل تھے اور ایک یا دو دریوں پر سما گئے تھے اور اس ایک ارب پچیس کروڑ آدمیوں کی دنیا میں یہ معمولی سی غریبانہ جماعت اس لئے جمع ہوئی کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دے گی۔اُن کے دل سے نکلی ہوئی گریہ وزاری نے عرش کو ہلا دیا۔فرمایا:۔