انوارالعلوم (جلد 14) — Page 248
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات یکدم مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اس لئے آہستہ آہستہ قربانیوں کا معیار بڑھایا جا رہا ہے تا کہ تمام جماعت ایک سطح پر آ جائے۔عقلمند انسان ہمیشہ ربانی ہوتا ہے۔اس لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُونُوا رَبَّانِینَ کے ربانی کے معنی ایسے شخص کے ہی ہیں جو پہلے چھوٹے سبق پڑھاتا ہے اور پھر بڑے۔بعض نادان اور منافق کہا کرتے ہیں کہ جن قربانیوں کا تم دعوی کرتے ہوان قربانیوں کو تم کر کے کیوں نہیں دکھاتے ؟ ان نادانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جن قربانیوں کی جماعت کو ضرورت ہے اور جن کے بغیر الہی سلسلے دنیا میں ترقی نہیں کیا کرتے انہی قربانیوں کی طرف تو میں اپنی جماعت کو لا رہا ہوں۔جو شخص کہتا ہے کہ میں تمہیں چھت پر چڑھا دوں گا اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے پہلی سیڑھی پر چڑھائے اور پھر دوسری اور پھر تیسری سیڑھی پر۔جو شخص ابھی پہلی سیڑھی پر ہے اسے چھت نظر نہیں آ سکتا لیکن اگر وہ ان سیڑھیوں پر چڑھتا چلا جائے گا تو آخر ایک دن چھت پر پہنچ جائے گا۔جو کام اس وقت ہمارے سپرد کیا گیا ہے یہ کام ایک دن ہوکر رہے گا۔اگر احمدیت کچی ہے اور یقیناً کچی ہے تو جو کچھ تحریک جدید میں مخفی ہے یا ظاہر وہ ایک دن دنیا پر رونما ہو کر رہے گا۔کئی باتیں تحریک جدید میں ابھی ایسی ہیں جو مخفی ہیں اور لوگ انہیں اس وقت پڑھ نہیں سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تحریک تفکر اور تدبر کے نتیجہ میں نہیں کی گئی بلکہ خدا تعالیٰ کے ایک مخفی الہام اور القائے ربانی کے طور پر یہ تحریک ہوئی ہے اور اس کے اندر ایسی ہی وسعت موجود ہے جیسے خدا تعالیٰ کے اور الہاموں میں وسعت موجود ہوتی ہے۔پس جوں جوں جماعت قربانیوں کے میدان میں اپنے قدم آگے بڑھاتی چلی جائے گی خواہ میری زندگی میں اور خواہ میرے بعد اس میں سے ایسی چیزیں نکلتی آئیں گی جو جماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیا قدم ہوں گی۔اصول سب تحریک جدید کی سکیم میں بیان ہو چکے ہیں البتہ تفصیلات اپنے اپنے وقت پر طے ہو سکتی ہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے یو نیورسٹی ایک کورس مقرر کر دیتی ہے اور اُس کا کام ختم ہو جاتا ہے۔آگے یہ طالبعلموں کا کام ہے کہ وہ جتنا جتنا کورس یاد کرتے جائیں اتنے اتنے امتحان میں وہ کامیاب ہوتے جائیں۔اسی طرح اب ایک مکمل کورس جماعت کیلئے تیار ہو چکا ہے، ایک کامل سکیم تمہارے سامنے پیش کر دی گئی ہے، ایسا مکمل کورس اور ایسی کامل سکیم کہ جَفَّ الْقَلَمُ عَلى مَاهُوَ كَائِنْ قلم نے جو کچھ لکھنا تھا وہ لکھ دیا اور اس کی سیاہی سُوکھ چکی۔