انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 247

انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات شروع کر دینا کہ میں مٹھائی نہیں کھایا کرتا بچپن کی عمر تھی جب ہم اُن کے منہ سے یہ الفاظ سنتے تو اُچھل کر استاد صاحب سے چمٹ جاتے اور کہتے کہ ہم تو آپ کو مٹھائی کھلا کر ہی رہیں گے۔جب ہم زیادہ اصرار کرتے تو انہوں نے اور زیادہ زور سے کہنا شروع کر دینا کہ نہ نہ میں نہیں کھاتا اور اپنے منہ کو خوب زور سے بھینچ لیتے اور کہتے خبردار! جو میرے منہ میں مٹھائی ڈالی۔ہم اس پر اور زیادہ زور سے مٹھائی اُن کے منہ میں ڈال دیتے۔انہوں نے تھوڑی سی مٹھائی کھا کر پھر منہ بھینچ لینا اور کہنا میں مٹھائی نہیں کھایا کرتا اور ہم نے پھر ان کے منہ میں مٹھائی ڈالنی شروع کر دینی۔یہاں تک کہ وہ اس طریق سے ہماری ساری مٹھائی کھا جاتے اور بچپن کی عمر کے لحاظ سے ہم سمجھتے کہ ہم نے بڑا کارنامہ کیا ہے۔تو مغرب میں جانے والا مبلغ اگر مغربی روح کا مقابلہ نہیں کرتا تو اس سے زیادہ اُس کی قربانی کی کوئی حقیقت نہیں جتنی قربانی مٹھائی کھاتے وقت ہمارا وہ استاد کیا کرتا تھا۔میں نے جیسا کہ ابھی کہا ہے میں غیر احمدیوں میں سے ایک ہزار آدمی ایسے پیش کر سکتا ہوں جو اس قسم کی قربانی کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔اگر تجربہ کرنا ہو تو تین چار دفعہ ” الفضل“ اور ”انقلاب میں اشتہار دیکر دیکھ لو اور لکھ دو کہ ہمیں امریکہ ، انگلینڈ یا جرمن اور فرانس میں تبلیغ اسلام کیلئے مبلغ درکار ہیں۔تمہیں چند ہی دنوں میں معلوم ہو جائے گا " کہ اس کیلئے تمہارے پاس کتنی درخواستیں پہنچتی ہیں۔مثل مشہور ہے کوئی پور بیا مر گیا اور اُس کے بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہ رہا۔اُس کی بیوی نے مین ڈالنے شروع کئے کہ ہائے میرا خاوند مر گیا اُس نے فلاں سے ساٹھ روپے لینے تھے اب کون لے گا، فلاں سے سو روپے لینے تھے وہ کون لے گا، جب اُس نے مین ڈال کر اس طرح کہنا شروع کیا تو ایک پور بیا کو دکر آگے آگیا۔اور جب اس نے کہا ہائے فلاں شخص سے میرے خاوند نے ساٹھ روپے لینے تھے وہ کون لے گا ؟ تو وہ کہنے لگا ”اری ہم ری ہم پھر وہ رونے لگی کہ فلاں سے سو رو پیدا اُس نے لینا تھا وہ کون لے گا ؟ وہ پھر کہنے لگا ”اری ہم ری ہم عورت پھر کہنے گی فلاں زمین اس کی تھی اب اس پر قبضہ کون کرے گا ؟ وہ کہنے لگا’اری ہم ری ہم پھر وہ عورت کہنے لگی اس نے فلاں کا دو سو روپیہ دینا تھا وہ کون دے گا ؟ یہ سن کر پور بیا کہنے لگا کہ ارے بھئی ! میں ہی برادری میں سے بولتا جاؤں یا اور بھی کوئی بولے گا۔تو اس قسم کی قربانی کوئی چیز نہیں قربانی وہ پیش کرو جو حقیقی ہو۔تحریک جدید کا مقصد ہی یہ ہے کہ تمہارے اندر قربانی کی روح پیدا کی جائے اور اعلیٰ قربانیوں کیلئے تمہیں تیار کیا جائے لیکن چونکہ اعلیٰ قربانیوں کا