انوارالعلوم (جلد 14) — Page 249
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات پس اب خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے جو راستہ مقرر کر دیا ہے اسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے سوا آب گمراہی کا راستہ تو ہے مگر ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔اسلام کے قیام کا اس زمانہ میں جو واحد ذریعہ ہے وہ اس تحریک میں آچکا ہے، اس میں عارضی تحریکیں بھی ہیں اور مستقل تحریکیں بھی ، عارضی تحریکیں مختلف موقعوں پر تبدیل ہوتی چلی جائیں گی اور اس کے اصول بھی اس تحریک میں بیان ہو چکے ہیں مثلا ممکن ہے قادیان میں مکانات بنانے کی سکیم کا حصہ ہمیشہ کیلئے ویسا نہ رہے جیسے اس زمانہ میں ضروری ہے یا امانت فنڈ کی تحریک ویسی نہ رہے جیسی اس وقت ہے۔بالکل ممکن ہے آج سے دس پندرہ یا بیس سال کے بعد ان تحریکوں کی ضرورت بالکل رہے یا بہت حد تک کم ہو جائے یا ممکن ہے کسی وقت ان حصوں کو بالکل بند کر نا پڑے اور پھر کسی دوسرے وقت خطرہ ہونے کی صورت میں دوبارہ ان حصوں کو شروع کر دیا جائے۔ایسا ہو سکتا ہے لیکن بہر حال اس تحریک کے جو اصولی حصے ہیں وہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔پس تم جو تحریک جدید کے بورڈنگ میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم ہو یا درکھو کہ تم تحریک جدید کے سپاہی ہو اور سپاہی پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔تمہارے نگرانوں کا فرض ہے کہ وہ تمہارے سامنے متواتر لیکچر دے کر تحریک جدید کی اغراض تمہیں سمجھا ئیں اور بتائیں کہ تحریک جدید کے بورڈنگ میں تمہارے داخل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ تم تحریک جدید کے حامل ہو اور تمہارا فرض ہے کہ تحریک جدید پر نہ صرف خود عمل کرو بلکہ دوسروں سے بھی کراؤ۔اس کی روح کو قائم رکھنا تمہارے فرائض میں داخل ہے اور چونکہ تم ابھی بچے ہو اس لئے تمہارے نگرانوں کا فرض ہے کہ تمہیں وہ تمام باتیں بتائیں اور مسلسل لیکچروں کے ذریعہ تمہارے ذہن نشین کریں۔مجھے یقینی طور پر معلوم ہے کہ سکول کے بعض افسر اس تحریک میں روک بنتے ہیں لیکن تم کو یہ امر ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اگر تمہارا باپ بھی اس کے خلاف کوئی بات کہتا ہے یا تمہاری ماں بھی اس کے خلاف کوئی بات کہتی ہے تو جب تک تم احمدیت پر ایمان رکھتے ہو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس شخص کی زبان پر شیطان بول رہا ہے کیونکہ تم نے بیعت خلیفہ کی کی ہے اپنے باپ یا اپنی ماں یا اپنے استاد کی نہیں کی۔اگر تم اس تحریک پر قائم نہیں رہ سکتے تو تمہیں سنجیدگی کے ساتھ اپنے ماں باپ سے کہہ دینا چاہئے کہ ہم اس تحریک پر عمل نہیں کر سکتے اور بورڈنگ سے اپنے آپ کو الگ کر لینا چاہئے۔لیکن جو طالب علم اس تحریک پر قائم رہیں اور اپنے ماں باپ کی بات مان لیں اور سمجھیں کہ جب ان کی مرضی یہ ہے کہ ہم اس تحریک کے