انوارالعلوم (جلد 14) — Page 321
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) پہنچنے دو۔میں جاتے ہی حضرت صاحب سے کہوں گا کہ ایسے جھوٹے شخص کو ایک منٹ کیلئے بھی جماعت میں نہ رہنے دیں فوراً خارج کر دیں۔میں تو پیسے جمع کر کر کے تھک گیا اور میرا پختہ ارادہ تھا کہ سہارنپور جاؤں گا مگر اب معلوم ہوا کہ یہ سب جھوٹ تھا۔اب اس بیچارے کے لئے یہی سمجھنا مشکل ہو گیا کہ ایسی عورت کوئی نہیں یہ ایک فرضی قصہ ہے جو اس لئے بنایا گیا ہے کہ تا وہ لوگ جو قصے پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں وہ اس رنگ میں احمدیت کے مسائل سے واقف ہو جائیں۔غرض مذہبی کتابوں میں یہ مشکل استعارات کو نہ سمجھنے والے طبقہ کی ذہنیت ہوتی ہے کہ جہاں کوئی استعارہ آیا وہاں ایک طبقہ کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے ہم آگے چلنے نہیں دیں گے جب تک تم اس بات کو اُنہی الفاظ میں تسلیم نہ کرو جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں۔دودھ کی نہروں کا ذکر آ جائے تو جب تک وہ یہ تسلیم نہ کر لیں کہ منٹگمری اور لاہور اور شیخو پورہ کی بھینسیں خدا تعالیٰ نے رکھی ہوئی ہونگی انہیں دودھ کی نہروں کا یقین ہی نہیں آتا۔کیلے کا ذکر آ جائے تو جب تک بمبئی کا کیلا جنت میں نہ مانیں اُن کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔شراب کا ذکر آ جائے تو گو وہ یہ ماننے کیلئے تیار ہو جائیں گے کہ جنت کی شراب زیادہ صاف ہو گی مگر یہ نہیں مانیں گے کہ شراب سے مراد کوئی اور چیز بھی ہو سکتی ہے اور اگر حور و غلمان کا ذکر آ جائے تو پھر تو ان کے منہ سے رالیں ٹپک پڑتی ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کے عہد خلافت میں ایک دفعہ میں مدارس دیکھنے کیلئے لکھنو گیا۔اتفاقاً وہاں ندوۃ العلماء کا جلسہ تھا۔میں بھی جلسہ دیکھنے کیلئے چلا گیا۔ایک مولوی عبدالکریم صاحب پروفیسر تھے۔اُن کی تقریر اُس وقت نماز کی خوبیوں کے متعلق تھی۔سامعین اگر چہ کم تھے مگر اُن میں سے اکثر مسلمان تھے اور وہ بھی مولوی طرز کے۔ایک مسلمان بیرسٹر بھی شریک تھے جو میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔مولوی صاحب نے تقریر شروع کی اور کہا کہ لوگو! نماز پڑھنی چاہئے۔نماز کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان کو جنت ملتی ہے اور جنت کیا ہوتی ہے؟ اس کے بعد انہوں نے جنت کی جو کیفیت بیان کرنی شروع کی اُس کا ذکر میرے لئے ناممکن ہے۔اس کا ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا میں بیان کر دیتا ہوں۔انہوں نے کہا۔وہاں بہترین شکل کی خوبصورت تصویریں ہونگی اور جس تصویر کو دیکھ کر انسان کا دل للچائے گا وہ فوراً خوبصورت عورت بن جائے گی اور پھر مرد و عورت کے تعلقات شروع ہو جائیں گے اور ان تعلقات کا جنت کی