انوارالعلوم (جلد 14) — Page 322
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (1) طرح اختتام نہیں ہوگا۔یہ نقص اسی بات کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے قرآن میں دو چار لفظ حور کے پڑھ لئے اور نتیجہ نکال لیا کہ جو کچھ یہاں ہے وہی کچھ وہاں بھی ہوگا۔میرے پاس جو بیرسٹر بیٹھے تھے وہ کہنے لگے۔اچھا ہوا یہ لیکچر رات کو رکھا گیا اگر دن کو رکھا جاتا اور لوگ زیادہ تعداد میں شامل ہو جاتے تو ہماری بڑی ذلت ہوتی۔تو الہامی کتابوں میں خصوصاً یہ مشکل پیش آتی ہے کہ لوگ کہہ دیتے ہیں یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں جو تشبیہہ یا استعارہ استعمال ہوا ہے وہ حقیقت ہے اس کے دوسرے معنی ہو ہی نہیں سکتے۔اسی طرح الہامی کتابوں کے علمی مضامین کے سمجھنے میں عوام کی مشکلات علی علی مضامین کا سمجھنا بھی عام لوگوں کیلئے بڑا مشکل ہوتا ہے جس کی کئی وجوہ ہیں۔اوّل الہامی کتابوں کی ترتیب عام کتابوں سے جُدا ہوتی ہے۔عام کتابوں میں تو یہ ہوتا ہے کہ مثلاً پہلے مسائل وضو بیان کئے جائیں گے پھر مسائل عبادت بیان کئے جائیں گے پھر ایک باب میں مسائل نکاح بیان کیے جائیں گے اسی طرح کسی باب میں طلاق اور خلع کا اور کسی میں کسی اور چیز کا ذکر ہو گا اور جس جگہ مسائل بیان ہو نگے اکٹھے ہو نگے۔مگر الہامی کتابوں میں یہ رنگ نہیں ہوتا اور اُن کی ترتیب بالکل اور قسم کی ہوتی ہے جو ڈ نیوی کتب کی ترتیب سے نرالی ہوتی ہے یہاں تک کہ جاہل لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اس میں ترتیب ہے ہی نہیں۔الہامی کتب کی نرالی ترتیب میں حکمتیں اب سوال اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ الہامی کتابوں میں دنیا کی تمام کتابوں سے نرالی ترتیب کیوں رکھی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بھی کئی حکمتیں ہیں۔(الف) اس ترتیب سے سارے کلام سے دلچسپی پیدا کرانی مد نظر ہوتی ہے۔اگر الہامی کتاب کی ترتیب اُسی طرح ہو جس طرح مثلاً قدوری کی ترتیب ہے کہ وضو کے مسائل یہ ہیں نکاح کے مسائل وہ ، تو عام لوگ اپنے اپنے مذاق کے مطابق اُنہی حصوں کو الگ کر کے ان پر عمل کرنا شروع کر دیتے اور باقی قرآن کو نہ پڑھتے مگر اب اللہ تعالیٰ نے سارے مسائل کو اس طرح پھیلا کر رکھ دیا ہے کہ جب تک انسان سارے قرآن کو نہ پڑھ لے مکمل علم اسے حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔( ب ) لوگوں کو غور و فکر کی عادت ڈالنے کیلئے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ ترتیب اختیار کی ہے۔اگر