انوارالعلوم (جلد 14) — Page 88
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت قاضی عبد السلام صاحب اور ان کے خاندان کے افراد۔محمد اکرم صاحب ڈاکٹر احمدی صاحب جن کا اصل نام عبداللہ ہے مگر وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ڈا کٹر احمدی کہتے اور لکھتے ہیں، محمد بشیر خان صاحب غلام فرید صاحب سلام علی صاحب راج بیگم صاحبہ عائشہ صاحبہ غلام محمد صاحب، فقیر محمد صاحب احمد دین صاحب مبارک احمد صاحب ملک احمد حسن صاحب اور ملک عبد العزیز صاحب اسی طرح کوٹری سے سید بشیر مبارک تار دیتے ہیں کہ ان کیلئے دعا کی جائے محمد رفیق صاحب کلکتہ سے جلسہ میں شامل ہونے پر سب دوستوں کو مبارکباد دیتے اور اپنی عدم شمولیت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی درخواست کرتے ہیں، شیخ عبد الحکیم صاحب نئی دہلی سے دعا کی درخواست کرتے ہیں ان کی صحت کچھ کمزور رہتی ہے، یوگنڈا کی جماعت تار دیتی ہے کہ اول تو ہماری طرف سے جلسہ اور عید کی مبارکباد دی جائے اور پھر ہماری طرف سے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتے ہوئے دعا کی درخواست کی جائے ان دوستوں کے نام یہ ہیں۔ڈاکٹر لعل الدین صاحب نصر اللہ خان صاحب محمد امین صاحب نذر احمد صاحب، محمد حسین صاحب، عبدالحی صاحب ابراہیم صاحب احمد الدین صاحب، محمد شریف صاحب فیض محمد صاحب، عبدالکریم صاحب اسحاق صاحب عبد الشکور صاحب، سکھے سے محمد فضل کریم صاحب تار دیتے ہیں کہ وہ کچھ بیمار ہیں، ان کیلئے دعا کی جائے اور سب کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتے ہیں، شجاعت علی صاحب ناسک علاقہ بمبئی سے تمام دوستوں کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتے اور دعا کی درخواست کرتے ہیں عبدالعزیز صاحب احمد آباد سے دعا کیلئے تار دیتے ہیں۔محمد نظیر صاحب شاہ جہان پور سے بذریعہ تار درخواست دعا کرتے ہیں۔ابراہیم صاحب نو د پور بمبئی سے تار دیتے ہیں کہ ان کی ترقی مدارج کیلئے دعا کی جائے نیز ان کے کاموں کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے اس کے ازالہ کیلئے بھی دعا کی جائے اسی طرح معظم بیگ صاحب گلگت سے اپنی بیوی کی صحت اور مشکلات کے رفع کیلئے درخواست دعا کرتے ہیں۔میں نے گزشتہ جلسہ میں بیان کیا تھا کہ میرے اعلان اور سفارشیں کرنے کے متعلق دوست مجھے جلسہ سالانہ کے موقع پر تحریک کیا کرتے ہیں اور چونکہ اس قسم کے اعلان بہت سا وقت لے لیتے ہیں علاوہ ازیں یہ ایک ایسی رسم ہوتی جاتی ہے جس کے متعلق مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط کرنی چاہئے اس لئے آئندہ میں اس قسم کے اعلان کرنے میں بہت احتیاط کروں گا اور کوشش کروں گا کہ مجمل سفارش بھی ترک کر دوں مگر پھر بھی بعض باتیں ایسی پیدا ہو