انوارالعلوم (جلد 14) — Page 89
انوار العلوم جلد ۱۴ جاتی ہیں جن کے متعلق مجبوراً اعلان کرنا پڑتا ہے۔تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ہمارے ایک دوست مولوی غلام حسن صاحب جھنگ کے رہنے والے ہیں اور وہاں کی جماعت کے امام ہیں ان کی مالی حالت بہت کمزور ہے وہ سلسلہ کی اکثر خدمت کرتے رہتے ہیں۔ان کا مکان بھی جماعت کے کام آتا ہے کیونکہ مسجد کے ساتھ وہی ایک مکان ہے مگر مالی حالت کی کمزوری کی وجہ سے خدشہ ہے کہ وہ مکان ان کے قبضہ سے نکل جائے اور قرض خواہوں کے پاس چلا جائے اور احمد یہ مسجد کی آبادی مشکل ہو جائے۔وہ کھیسوں کی تجارت کیا کرتے ہیں۔کھیں ہمارے ملک میں عام طور پر بستر کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور بجائے چادروں یا دو نہیوں کے بہت سے لوگ بستر پر کھیں بچھایا کرتے ہیں۔جن دوستوں کو کھیسوں کی ضرورت ہو میں چاہتا ہوں کہ ان سے خریدیں۔ان کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور پھر چیز بھی اچھی ملے گی کیونکہ جھنگ کھیوں کیلئے مشہور ہے۔پھر حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کی کتاب بیاض نور الدین طب کی ایک نہایت ہی اعلیٰ کتاب ہے۔گو وہ ایسی طرز پر لکھی ہوئی ہے جیسے سمندر ہوتا ہے کہ جس میں غوطہ لگا کر ہی انسان موتی نکال سکتا ہے۔مگر بلحاظ مطالب وہ نہایت ہی مفید کتاب ہے اور اس میں حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کے بہت سے ایسے نسخے ہیں جو آپ کی عمر بھر کے تجربہ سے صحیح اور مفید ثابت ہوئے ہیں۔اطبا ء اس کتاب سے بہت زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور جو طبیب نہیں وہ بھی عام معالجات میں جن میں کسی ڈاکٹر یا حکیم کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی یا جہاں ڈاکٹروں اور حکیموں کا میسر آنا مشکل ہو اس سے بہت کچھ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔یہ بیاض نورالدین دو چھپی ہیں ایک حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے بچوں کی طرف سے مگر ابھی اس کی ایک ہی جلد شائع ہوئی ہے دوسری جلد چھپنی باقی ہے، اس کی چھپوائی میں زیادہ صفائی سے کام لیا گیا ہے۔اور دوسری مکمل بیاض مفتی فضل الرحمن صاحب کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔مفتی فضل الرحمن صاحب کو حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے خود بیاض لکھوائی تھی بیسیوں دفعہ بلکہ اس سے بھی زیادہ میں نے اپنی موجودگی میں حضرت خلیفہ اول کو یہ بیاض انہیں لکھواتے دیکھا۔گو اس کے چھپنے میں بعض غلطیاں رہ گئی ہیں مگر اس میں جو نسخے ہیں وہ حضرت خلیفہ اول کے ہی ہیں اور آپ نے ہی اس کتاب میں لکھوائے۔انہوں نے یہ بیاض مکمل چھپوائی ہے۔مگر کہتے ہیں کہ میں نے قرض لے کر اس کتاب کو چھپوایا تھا جو فروخت نہ ہونے کی وجہ سے اب تک چلا آ رہا ہے۔طب ایسی