انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 71

زنده خدا کا زنده نشان انوار العلوم جلد ۱۴ مقدمہ کی سماعت ہوئی۔اور بقول چودھری افضل حق صاحب چٹ میری منگنی پٹ میرا بیاہ کے مقولہ کے مطابق مجسٹریٹ نے ان کو چار ماہ قید کی سزادے دی۔اور باقی احراری لیڈر جو شہید گنج کی شورش کے وقت یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم تو اس لئے خاموش ہیں کہ اس کام میں مسلمانوں کا نقصان ہے ورنہ جان دینے سے تو ہم نہیں ڈرتے خاموشی سے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔مولوی عطاء اللہ کی زندگی میں دو تغیر اے دوستو ! اس طرح پورے ایک سال میں مولوی عطاء اللہ صاحب کی زندگی میں دو تغیر پیدا ہوئے۔۱۹۳۴ ء میں انہوں نے قادیان آ کر بانی سلسلہ احمدیہ کی عزت پر حملہ کیا۔اور اس حد تک کامیابی حاصل کی کہ حکومت اور جماعت کے تعلقات کو بگاڑ دیا۔پھر ۱۹۳۵ء میں انہوں نے دوبارہ حملہ کیا لیکن اس دفعہ ان کی غرض حکومت اور احمد یہ جماعت کے تعلقات کو بگاڑنا نہ تھی کیونکہ وہ تو پہلے ہی بگڑ چکے تھے نیز اس دفعہ حکومت ان کے قادیان آنے کے خود خلاف تھی۔احرار کے دوسرے حملہ کی غرض پس اس دفعہ آنے کی غرض یہ تھی کہ ایسی صورتِ حالات پیدا کر دیں کہ جس۔مسلمانوں میں احمدیت کے خلاف اشتعال پیدا ہو کر احمدیت مسلمانوں کی نگاہوں میں ذلیل ہو اور شہید گنج کی وجہ سے کھویا ہوا وقار پھر احرار کو حاصل ہو جائے۔گویا پہلے حملہ میں ان کا بڑا مقصد حکام کے دلوں میں اشتعال پیدا کرنا تھا اور اس دفعہ ان کا بڑا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں اشتعال پیدا کرنا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حملہ کو نا کام کر دیا اور وہ گرفتار ہو کر عدالت گورداسپور میں پیش ہوئے اور وہاں انہیں جاتے ہی چار ماہ کی قید کا حکم مل گیا۔دیکھنے میں یہ واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کشف معمولی معلوم ہوتے ہیں اور کوئی عجیب بات ان میں نظر نہیں آتی لیکن در حقیقت ان میں ایک بہت بڑا نشان ہے اور سوچنے والوں کیلئے بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا ایک زبردست ثبوت۔اس نشان کو ذہن نشین کرانے کیلئے میں پھر ا حباب کو ۳۳ سال پہلے کے زمانہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں۔۳۳ سال ہوئے نومبر کے ہی مہینہ میں کہ جس میں مباہلہ کے نام پر جمع ہونے کیلئے احرار نے اعلان کیا تھا بانی سلسلہ احمدیہ نے مندرجہ ذیل کشف دیکھا جو اخبار بدر ۱۹۰۲ء میں شائع ہو چکا ہے۔