انوارالعلوم (جلد 14) — Page 70
انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان کی طرف سے میرے نام تار آگئی کہ احرار مباہلہ کیلئے تیار ہیں، ۲۳ نومبر کو وہ قادیان مباہلہ کیلئے آجائیں گے۔اس پر جماعت احمدیہ کے سیکرٹری نے انہیں جواب لکھا کہ آپ نے شرائط کا تصفیہ تو کیا نہیں، اس اعلان سے کیا مطلب ہے؟ اس کا جواب سیکرٹری کو تو کوئی نہ دیا گیا لیکن اخبارات میں شور مچا دیا گیا کہ ہمیں سب شرائط منظور ہیں لیکن ساتھ ہی جو مضامین اس بارہ میں احرار کی طرف سے شائع ہوئے، ان میں قریباً ہر شرط کو رد کر دیا گیا۔مثلاً میری شرط تھی کہ پانچ سو یا ہزار آدمی مباہلہ میں شامل ہوں۔اس کے متعلق لکھا گیا کہ آپ جتنے چاہیں آدمی لائیں ہم آپ کو مجبور نہیں کرتے۔باقی رہا ہمارا معاملہ سو ہم آپ کی شرط کے پابند نہیں، ہم تو ہزار ہا آدمی ساتھ لائیں گے بلکہ مزید برآں یہ شرط بھی ہوگی کہ جو مباہلہ میں شامل نہ ہوں دیکھنے کیلئے آئیں، ان کو بھی مباہلہ دیکھنے سے روکا نہ جائے۔ان اعلانات سے صاف ظاہر تھا کہ مباہلہ نہیں بلکہ احرار ایک دنگل کرنا چاہتے ہیں۔پس میں نے اعلان کر دیا کہ یا تو احرار شرائط طے کر کے فقط پانچ سو یا ہزار آدمی اپنے لائیں اور قادیان میں مباہلہ کر لیں ورنہ قادیان سے باہر لاہور یا گورداسپور میں مباہلہ کریں کیونکہ قادیان کو ہم فساد کی جگہ نہیں بنانا چاہتے۔نہ اس میرے اعلان کا احرار نے کوئی جواب احرار کی طرف سے قربانی کا بکرا نہ دیا یکی اعلان پر اعلان کر نا شروع کر دیا کہ مسلمان کثیر تعداد میں قادیان ۲۲۔نومبر کو پہنچ جائیں۔اس پر حکومت نے کریمنل لا ء ایمنڈ منٹ ایکٹ کے ماتحت احرار لیڈروں کو قادیان جانے سے روک دیا اور احرار جو حکومت کا تختہ الٹنے کی ڈینگیں ہمیشہ مارا کرتے ہیں، خاموش ہو کر بیٹھ رہے اور آخر سوچ کر یہ عذر تراشا کہ ہم لوگ ۶۔دسمبر کو قادیان میں جمعہ پڑھنے کیلئے جانا چاہتے ہیں۔چونکہ یہ محض ایک عذر تھا، ورنہ قادیان میں جمعہ کی کوئی خاص وجہ احرار کیلئے نہ تھی اور پھر ایسے لیڈروں کیلئے جن میں سے بعض نماز کے ترک کیلئے مشہور ہیں اس لئے حکومت نے جمعہ سے روکنے کیلئے نہیں بلکہ فساد سے روکنے کیلئے احرار کو پھر نوٹس دے دیئے۔باقی احرار تو خاموش ہو گئے لیکن قربانی کے بکرے کے طور پر مولوی عطاء اللہ صاحب کو انہوں نے پیش کر دیا۔انہوں نے حکومت کے حکم کی نافرمانی کی اور قادیان کی طرف روانہ ہو گئے۔جس پر حکومت نے قانون شکنی کے ارتکاب کے بعد انہیں ۶۔دسمبر کو گرفتار کر کے گورداسپور پہنچا دیا۔جہاں ۷۔دسمبر کو ان کے