انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 394

394 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات جب کسی شخص سے تقدس کی خوشبو آنے لگتی ہے تو جس طرح کئی شکاری گتے ہوتے ہیں انہیں اگر کسی چور کے کپڑے کی خوشبو سنگھا کر چھوڑ دیا جائے تو وہ دس ہیں بلکہ سو میل تک بھی پیچھے جا کر اُسے پکڑ لیتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حکومت میں بھی ایک شکاری گتا ہے جسے تقدس کی خوشبو سے دشمنی ہے اور جس میں اسے یہ خوشبو آئے، اُس پر دیوانہ وار حملہ کرتا ہے۔اُس کا نام شیطان ہے۔جہاں اُسے تقدس کی خوشبو آئے گی وہاں دوڑ کر جائے گا اور کوشش کرے گا کہ جس سے خوشبو آتی ہے اُس چیر ڈالے۔جب خدا کا ہاتھ کسی کے ہاتھ پر نبی یا خلیفہ کے ذریعہ رکھا جاتا ہے تو ادھر تقدس کی خوشبو پیدا ہوتی ہے اور ادھر شیطان حملہ کر دیتا ہے۔پہلے آدم نے جب خدا تعالیٰ سے تقدس کی خوشبو پائی تو اس سے شیطان نے سونگھی۔اب جہاں وہ خوشبو پاتا ہے اُدھر دوڑ پڑتا ہے۔وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پیچھے دوڑا، پھر حضرت نوح علیہ السلام آئے اور انہوں نے خوشبو پائی تو ان کے پیچھے دوڑا پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے اور ان کے ذریعہ یہ خوشبو پھیلی تو اُن کے پیچھے دوڑ پڑا، پھر حضرت کرشن جی حضرت رام چندر جی حضرت زرتشت، حضرت عیسی حضرت محمد ﷺ آئے تو ان کے پیچھے دوڑا اگر ان سب میں ایک ہی قسم کی خوشبو نہ ہوتی تو ان پر شیطان کا حملہ بھی ایک ہی رنگ میں نہ ہوتا۔چونکہ ان کی خوشبو ایک ہی طرح کی تھی اور وہ الوہیت کی خوشبو تھی، اس لئے شیطان نے ان کے زمانوں میں حملہ بھی ایک ہی رنگ میں کیا۔اب وہی گتا ہمارے پیچھے دوڑ پڑا ہے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے تقدس کی خوشبو ہم میں پیدا ہو چکی ہے اس لئے شیطان سے تعلق رکھنے والے اس خوشبو کو برداشت نہیں کر سکتے اور جس طرح شکاری کتا بو کے پیچھے دوڑتا ہے اسی طرح وہ ہمارے پیچھے دوڑتے اور ہمیں پلا قصور اور بغیر گناہ کے قتل کرنا اور تباہ کرنا چاہتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ إِلَى صلى الله حين A یعنی اے آدم کی اولاد! جاؤ تم جہاں بھی جاؤ گے شیطان تمہارے پیچھے لگا رہے گا۔پس جب کوئی آدم بنے کی کوشش کرتا ہے تو شیطان اُس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلِ وَلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَحُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ ايته وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ فِتْنَةٌ لِلَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّلِمِينَ لَفِى شِقَاقٍ بَعِيدٍ