انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 395

395 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تم سے پہلے کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں بھیجا کہ جب اُس نے ارادہ کیا اور سکیم بنائی تو شیطان نے اُس کے رستہ میں روکیں نہ پیدا کرنی شروع کر دی ہوں۔ہاں اللہ تعالیٰ لمبی جد و جہد کے بعد شیطان کی روکوں کو مٹا دیتا ہے اور ان باتوں کو قائم کر دیتا ہے جو اُس کی طرف سے ہوتی ہیں۔اللہ بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔اللہ کیوں ایسا کرتا ہے اس لئے کہ نبی مقدس جماعت بنائے۔جب شیطان روکیں پیدا کرتا ہے تو جن کے دلوں میں بدی ہوتی ہے اور جن کے قلوب سخت ہوتے ہیں، وہ اس کی بات مان لیتے ہیں اور بلا وجہ مؤمنوں پر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں اور ایسے ظالم دُور کی گمراہی میں پڑے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے کہ جب کوئی نبی آتا ہے اور وہ لوگوں کی اصلاح کی تجاویز کرتا ہے، تو شیطان روکیں ڈالنا شروع کر دیتا ہے تاکہ مومنوں اور منافقوں کو الگ الگ کر دے۔صلى الله وہ جو ہمیں کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کی اور دوسرے انبیاء کی ہتک کرتے ہیں اگر انہی آیات کو لے لیا جائے تو وہ ان کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ شیطان نے سب انبیاء پر تصرف کیا حتی کہ رسول کریم ﷺ پر بھی اس نے تصرف کر لیا تھا اور آپ کی زبان پر بتوں کی تعریف جاری کر دی تھی حالانکہ خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ رسول کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ لوگ سچے مومن اور مقدس انسان بن جائیں اور شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مقدس نہ بنیں۔وہ ان کے پیچھے دوڑتا ہے کہ ان کو مقدس بننے سے پہلے ہی چیر پھاڑ دے کیونکہ خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلطان یعنی خدا کے بندہ پر شیطان کا تصرف نہیں ہو سکتا۔شیطان کوشش کرتا ہے کہ خدا کا بندہ بننے سے پہلے پہلے تصرف جمالے۔اس طرح دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔تب جو کمزور ہوتے ہیں وہ شیطان کے قبضہ میں آ جاتے ہیں اور جو طاقت رکھتے ہیں وہ خدا کی مقدس جماعت میں شامل ہوتے جاتے ہیں۔پس انبیاء کی جماعتوں کے مقابلہ میں فتنے اس لئے کھڑے کئے جاتے ہیں کہ کمزور ظاہر کر دیئے جائیں۔پہلے تو وہ بھی تھوڑی دیر دوڑتے ہیں مگر پھر سمجھتے ہیں ہمارا تو کوئی نقصان نہیں ہمیں تو شیطان کے چیلے کچھ نہ کہیں گے۔اس طرح وہ مقدس جماعت سے گرتے جاتے ہیں اور جماعت صاف ہوتی جاتی ہے۔دراصل گرنے والے وہی ہوتے ہیں جن کے اندر تقدس پیدا نہیں ہوا ہوتا ورنہ جس میں نقدس پیدا ہو جائے وہ کبھی شیطانی لوگوں کے تصرف میں نہیں آ سکتا اور ان میں شامل نہیں ہو