انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 393

393 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات ہے کہ انبیاء دنیا میں جماعت نہیں بلکہ پاک اور مقدس جماعت بنانے کے لئے آتے ہیں۔اور تقدس جو ہوا کرتا ہے وہ آسمان سے نہیں اُتر ا کرتا۔الہام اور وحی آسمان سے اترتی ہے اور نبوت بھی آسمان سے اترتی ہے۔مگر تقدس آسمان سے نہیں اترتا اور نہ بازاروں سے مل سکتا ہے، یعنی چندے دینے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔اگر ایسا ہوتا تو موجودہ زمانہ میں راک فیلر کارنیگی 1 وغیرہ سب سے زیادہ تقدس رکھتے کیونکہ انہوں نے کروڑوں روپے رفاہ عام کے لئے خرچ کئے۔ایک شخص کے متعلق چھپا تھا کہ اس نے ایک ارب سے زیادہ روپیہ اپنی زندگی میں بطور صدقہ دیا۔بعض ایسے بھی لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ صدقہ میں دے دیا اور جب مرے تو پیچھے کوڑی بھی باقی نہ تھی۔اگر روپیہ سے تقدس مل سکتا تو یہ لوگ سب سے بڑے مقدس ہوتے۔پھر تقدس کہاں سے آتا ہے؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیئے تقدس دو طرح سے آتا ہے پہلے عارضی طور پر اُس وقت آتا ہے جب کوئی شخص خدا کے رسول یا اُس کے خلیفہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرتا ہے۔جیسے بیاہ شادیوں میں گلاب پاشی کی جاتی ہے اسی طرح بیعت کرنے والے پر خدا کے فرشتے تقدس چھڑ کہتے ہیں۔مگر جس طرح باہر کی خوشبو خواہ کتنی قیمتی ہو۔(سنا ہے شاہی زمانوں میں ہزار ہزار روپیہ تو لہ کا عطر بھی ہوا کرتا تھا۔) وہ ساری عمر نہیں رہتی اسی طرح باہر کا تقدس بھی ہمیشہ نہیں رہتا۔ہمیشہ رہنے والا تقدس اندر کا ہی ہوتا ہے۔ہزار روپیہ تو لہ والا عطر کچھ عرصہ کے بعد اُڑ جاتا، مگر پچاس روپے کی کستوری کی خوشبو قائم رہتی ہے۔تو اندرونی خوشبو قائم رہتی ہے اور بیرونی عارضی ہوتی ہے۔جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کے نبی یا اس کے خلیفہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس خوشی کے موقع پر تقدس کا پانی اُس پر چھڑ کہتے ہیں تا کہ اُس کے ناک کو تقدس کی خوشبو سے آشنائی حاصل ہو جائے اور وہ دھوکا نہ کھائے۔چنانچہ خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْق أَيْدِيهِمْ یقیناً وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں، وہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔اللہ کا ہاتھ اُن کے ہاتھ کو لگا۔اللہ تعالیٰ چونکہ قدوس ہے اس لئے جب قدوس کا ہاتھ بیعت کرنے والے کو لگتا ہے تو اُسے تقدس کی خوشبو آنے لگ جاتی ہے۔یہ عارضی تقدس اُس وقت ملتا ہے جب کوئی شخص بیعت میں داخل ہوتا ہے۔اُس وقت وہ الوہیت کا جامہ پہن لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات کے آثاراً سے نظر آنے لگ جاتے ہیں۔مگر یہ نمونہ ہوتا ہے اُسے آگاہ کر کے خوشخبری دینے کے لئے۔اس کے بعد اگر وہ اپنے اندر نقدس نہ پیدا کرے گا تو بیرونی نقدس اڑ جائے گا۔