انوارالعلوم (جلد 13) — Page 147
۱۴۷ انوار العلوم جلد ۱۳ رحمة للعالمين جاتا ہے لیکن اگر شیر نہ ہوتا تو شیر افگن کہاں سے پیدا ہوتے۔اگر بہادر شیر انسانوں کی بہادری کی آزمائش کیلئے نہ ہوتا تو بہادری کی آزمائش کا یہی ذریعہ رہ جاتا کہ لوگ بنی نوع انسان پر حملہ کر کے اپنی شجاعت کی آزمائش کرتے اور یہ جانور تو زندہ ہی نہیں مر کر بھی ہمارے کام آتا ہے اس کی چربی اور اس کے ناخن اور اس کی کھال علاجوں اور زینت و زیبائش میں کیسی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔مجھے سانپ کے زہر سے زیادہ اس کے گوشت کے فوائد نظر آنے لگے اور میں نے کہا کہ اگر سانپ نہ ہوتا تو ہمارے اطباء قرص افعی کہاں سے ایجاد کرتے ؟ اور اگر بچھو نہ ہوتا تو یہ گردوں کی پتھریوں کے مریض آپریشن کے بغیر کس طرح آرام پاتے ؟ میں نے مچھر کو صرف کثرتِ رطوبت کا ایک الارم پایا۔بیچارا چھوٹا سا جانور کس طرح رات دن ہمیں بیدار کرتا اور بتاتا ہے کہ گھر میں نالیاں گندی رہتی ہیں شہر کی بد روئیں میلے سے بھری رہتی ہیں۔لوگ پانی جیسی نعمت یونہی ضائع کر رہے ہیں غرض رات دن ہمیں اپنے فرض سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔جب ہم ہوشیار ہی نہیں ہوتے اور سستی کا دامن نہیں چھوڑتے تو بیچارہ غصہ میں آ کر کاتا ہے۔بیماری اتنی مچھر سے پیدا نہیں ہوتی جتنی کثرت رطوبت سے جتنی گندی نالیوں کے تعفن سے، بد روؤں کی غلاظت اور بے احتیاطی سے پھینکے ہوئے پانیوں سے۔غرض مجھے ہر شے میں اس کے پیدا کرنے والے کا حُسنِ نظر آنے لگا۔ہر ذرہ میں ازلی ابدی محبوب کی شکل نظر آنے لگی۔مگر ناگاہ میری نظر آبادیوں کی طرف اُٹھ گئی اور میں نے دیکھا کہ لوگ پہاڑیوں، درختوں، پتھروں، دریاؤں، جانوروں کے آگے سجدے کر رہے ہیں اور مغز کو بھول کر چھلکے پر فدا ہورہے ہیں۔میری طبیعت منعض کے ہوگئی اور میرا دل متنفر ہو گیا اور مجھے شیر سانپ بچھو تو الگ رہا مصفی پانی میں بھی لاکھوں کیڑے نظر آنے لگے اور سبزہ زار مرغزاروں سے بھی سڑے ہوئے سبزے کی دماغ سوز بو آنے لگی اور میں نے دیکھا کہ یہ زمین تو ایک دن رہنے کے قابل نہیں۔مجھے یوں معلوم ہوا گویا یہاں کی ہر ھے مُردہ ہے اور اس کے نظارے ایک بدکار بڑھیا کی مانند ہیں کہ باوجود ہزاروں بناوٹوں اور تزئینوں کے اس کی بدصورتی اور بدسیرتی چُھپ نہیں سکتی۔مگر میں اسی حالت میں تھا کہ پھر وہی آواز بلند ہوئی پھر وہی شیریں دل میں کچھ جانے والی آواز اونچی ہوئی اور اس نے کہا کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے، سب کچھ انسان کے نفع کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔^ اس کے پہاڑ اور اس کے دریا اور اس کے چرند اور اس کے پرند اور اس کے میوے اور اس کے غلے سب کا مقصود یہ ہے کہ انسان کے اعمال میں تنوع پیدا ہو اور وہ ان امانتوں کے بہترین استعمال سے اپنے پیدا کرنے