انوارالعلوم (جلد 13) — Page 49
انوار العلوم جلد ۱۳ ۴۹ صداقت معلوم کرنے کا طریق سلوک جاری رکھتا ہے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم خدا کے بندے ہوتے ہوئے آپس میں محبت اور دوستی اور نفع رسانی کے تعلقات نہ رکھیں۔اس میں شک نہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگ مرنے کے بعد کے متعلق مختلف خیالات رکھتے ہیں۔مثلاً مسلمان یہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان اپنے اعمال کی وجہ سے بہشت یا دوزخ میں جائے گا۔ہندو کہتے ہیں کہ اعمال کے بدلے انسان کو مختلف جونوں کے چکر میں ڈالا جاتا ہے۔اسی طرح بیسیوں قسم کے خیالات ہیں مگر باوجود اس کے ایک بات میں سب کا اتحاد ہے اور وہ بات یہ ہے کہ انسان کی مرنے کے بعد خواہ کوئی حالت ہو اس کے جسم کو آگ میں ڈالا جائے یا اس کی روح کو، اسے آواگون کے چکر میں ڈالا جائے یا کوئی اور سزا دی جائے اس قسم کی ہر حالت میں خدا اپنے بندے کی پرورش کرتا رہے گا کیونکہ اگر سزا کی حالت میں پرورش نہ کرے تو پھر سزا پانے والے کا چھٹکا را ہو جائے گا اور اس پر سزا کا کوئی اثر نہ ہوگا۔آواگون کے قائل خواہ یہ کہیں کہ انسان کو مرنے کے بعد اس کے اعمال کی سزا میں گتا بنادیا جائے گا تو بھی اسے کھانے کو خدا تعالیٰ دیتا ہے اور اگر سور بنا دے تو بھی اسے خوراک مہیا کرتا ہے۔جولوگ دوزخ کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں ، اس میں خدا تعالیٰ انسان کو علاج کے طور پر رکھے گا اور جب دیکھے گا کہ علاج ہو گیا تو پھر اس میں سے نکال دے گا۔غرض کسی مذہب کا کوئی پیرو یہ نہیں کہتا کہ خدا کا رحم کسی وقت اور کسی حالت میں بھی بندہ سے منقطع ہو جائے گا۔جب خدا تعالیٰ کا بندوں سے یہ سلوک ہے تو ہمارا آپس کا سلوک بھی اس کے ماتحت ہونا چاہئے۔جس طرح خدا تعالیٰ اپنے منکر دہر یہ سے بلکہ گالیاں دینے والے سے بھی اپنی رحمت ہٹا نہیں لیتا اسی طرح ہمیں بھی آپس میں سلوک کرنا چاہئے۔اس کے متعلق افسوس کے اظہار کے طور پر اور ایسی خواہش کے پورا کرنے کیلئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اتحاد اور آپس کے بہترین تعلقات کی کوئی صورت نکل سکے اور آپ میں سے کوئی صاحب یا اور جو اس وقت یہاں موجود نہ ہوں کوئی بات پیش کرنا چاہیں تو میں بڑی خوشی سے اس کے متعلق غور کروں گا۔تا کہ ہمارے تعلقات دوسروں کے لئے نمونہ کے طور پر ہوں۔گو جس غرض کے لئے اس وقت آپ صاحبان کو یہاں تشریف لانے کی تکلیف دی گئی ہے اس سے یہ امر تعلق نہیں رکھتا مگر چونکہ مجھے آپ صاحبان سے ملنے کا موقع نہیں ملتا اس لئے میں نے اس وقت یہ امر بیان کر دیا ہے۔اس کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ سلسلہ کو شروع ہوئے پچاس سال کے قریب : ہو