انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 50

انوار العلوم جلد ۱۳ صداقت معلوم کرنے کا طریق ہیں اور باقاعدہ جماعت بھی ۴۴ سال سے قائم ہے اس عرصہ میں ہماری طرف سے مختلف کتا ہیں، ٹریکٹ ، اشتہار اور تقریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔آپ لوگ چونکہ ہمارے ہمسائے اور پڑوسی ہیں اس لئے آپ لوگوں پر دوسروں کی نسبت زیادہ ہمارے حالات واضح ہیں۔اگر ہم میں کوئی کوتاہیاں ہیں تو وہ بھی آپ لوگوں پر ظاہر ہیں اور اگر نیکیاں ہیں تو وہ بھی ظاہر ہیں۔ہمارے اعتقادات بھی آپ کو معلوم ہیں اور ہمارے دلائل بھی آپ کے سامنے ہیں میں اپنے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ میں نے تمام مذاہب کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔نہ صرف ہندوستان کے مذاہب کی کتابوں کا بلکہ ہندوستان سے باہر کے مذاہب کی کتب کا بھی اور میں نے کبھی کسی مذہب کی کتاب کو اس لئے نہیں پڑھا کہ اس کی غلطیاں نکالوں کیونکہ جو اس نیت سے پڑھتا ہے وہ گویا پہلے ہی اس کو غلطیوں کا مجموعہ قرار دے لیتا ہے اور اس طرح وہ کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔میں سنسکرت نہیں جانتا میں نے ویدوں کے انگریزی تراجم پڑھے ہیں اور نہ صرف ایک بار پڑھے ہیں بلکہ بعض منتروں کو مزے لے لے کر تکرار سے پڑھا ہے۔اسی طرح توریت اور انجیل کو پڑھا ہے، بابا نانک کے اقوال بھی پڑھے ہیں اس لئے میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہ سکتا ہوں کہ دوسرے مذاہب کی کتب کے مطالعہ سے انسان کو فائدہ ہی پہنچتا ہے اور اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جگہوں میں بھی خوبیاں ہیں اور ان خوبیوں کی بھی قدر کرنی چاہئے۔لیکن جو لوگ کسی مذہب کی کتاب کا اس نیت سے مطالعہ کرتے ہیں کہ اس مذہب کے نقائص اور برائیاں معلوم کریں ، وہ ان بُرائیوں کا صفایا کرتے کرتے اصل چیز کا بھی صفایا کر دیتے ہیں۔ایک نقص کو محبت سے بھی مٹایا جا سکتا ہے، جیسے ماں بچہ کی کسی غلطی اور کو تا ہی کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔مگر جن کی نظر صرف نقائص پر ہوتی ہے وہ اصل چیز کو بھی مٹا دیتے ہیں۔میں نے کبھی کسی مذہب کا تعصب کی نظر سے مطالعہ نہیں کیا۔آج میں آپ صاحبان کو یہی بتانا چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس طریق سے ہمارے سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی پر ۴۴ سال گزرچکے ہیں۔اس دعویٰ کو ہم نے دنیا کے دور دراز گوشوں تک پہنچایا ہے۔اس صورت میں ہمارا حق ہے کہ آپ صاحبان سے بھی درخواست کریں کہ ٹھنڈے دل سے آپ اس پر غور کریں، اس میں کسی کی سبکی نہیں۔اگر حق معلوم ہو تو قبول کریں اور نہ معلوم ہو تو نہ قبول کریں۔مجھے اس وقت دلائل میں جانے کی ضرورت نہیں۔میں سکھ اور ہند واصحاب سے ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جو ہندو اور سکھ مجھ سے بھی کہہ سکتے ہیں اور وہ سلسلہ احمدیہ کے بانی کا دعویٰ ہے۔وہ