انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 48

۴۸ انوار العلوم جلد ۱۳ صداقت معلوم کرنے کا طریق بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ صداقت معلوم کرنے کا طریق باوجود اس کے کہ اس وقت قادیان کے بہت سے غیر مسلم اصحاب یہاں تشریف رکھتے ہیں میں سمجھتا ہوں ایک حصہ ایسے اصحاب کا ہے جو یہاں تشریف نہیں رکھتے لیکن چونکہ یہاں سب غیر مسلم اصحاب سے ہمارے خاندان کے تعلقات کئی پشتوں اور نسلوں سے چلے آ رہے ہیں اور کبھی ایسے خوشگوار تعلقات تھے جو نہ صرف ایک جگہ کے رہنے والوں میں ہو سکتے ہیں بلکہ جو عزیزوں کے آپس میں ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے گزشتہ چند سالوں سے میں چونکہ دیکھتا ہوں کہ بعض ایسے امور پیدا ہو گئے جن کی تفصیل میں اس وقت میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ اس کے لئے یہ موقع نہیں ان امور کی وجہ سے تعلقات نے ایسی صورت اختیار کر لی ہے کہ پہلے کی طرح آپس میں میل جول نہیں رہا اس لئے میں اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے تعلقات جو خدا کے بندوں کے آپس میں ہونے چاہئیں، ان کو مذہبی اختلاف مٹا نہیں سکتا۔جس طرح خدا تعالیٰ کا طریق ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں حتی کہ ان سے بھی جو خدا کے منکر ہوتے اور اسے گالیاں دیتے ہیں ، وہ اپنے فیوض پیچھے نہیں رکھتا۔قطع نظر اس سے کہ کونسا مذ ہب سچا ہے، سب مذاہب والوں کے لئے خدا تعالیٰ کی نعمتیں موجود ہیں اور سب کے سب ان سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔اس کی زمین اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں کیلئے کشادہ ہے جس طرح مسلمانوں کیلئے ، اس کا سورج چاند اور ستارے اسی طرح ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں کو فائدہ پہنچارہے ہیں جس طرح مسلمانوں کو ، اسی طرح بندوں کو آپس میں تعلقات رکھنے چاہئیں۔در اصل خدا تعالیٰ کے دو طرح کے تعلقات ہوتے ہیں۔ایک خاص لوگوں سے اور ایک بندہ ہونے کے لحاظ سے ہر بندہ سے۔بندہ خواہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار نہ کرے اور اس سے ہنسی کرے، پھر بھی خدا تعالیٰ کہتا ہے یہ میرا بندہ ہی ہے اور اس سے بندہ ہونے کے حصہ کی محبت کا