انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 307

307 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق یعنی میں نے ہر طرح لوگوں کو سمجھایا مگر لوگ نہ سمجھے اور جب میں نے دیکھا کہ نافرمانی حد سے بڑھتی جا رہی ہے اور بار بار توجہ دلائے جانے کے لوگ باز نہیں آتے اور یہ طوفان گناہ انہیں خدا تعالیٰ سے دور سے دور تر لے جائے گا تب میں نے دعا کی کہ الہی ! اس حالت سے تو بہتر تھا کہ یہ لوگ مر جاتے۔کوئی وباء ایسی پڑے کہ یہ لوگ جسمانی موت کا شکار ہو جائیں کیونکہ جولوگ عقل اور سمجھ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا کے حضور گناہ گار ہو کر جینے سے مرنا ہزار درجہ بہتر ہے۔اس کے بعد کتاب سراج منیر میں جو ۱۸۹۷ ء میں شائع ہوئی، آپ تحریر فرماتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ يَامَسِيحَ الْخَلْقِ عَدْوَانَا " یعنی دنیا پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اے دنیا کیلئے مسیح کے طور پر ظاہر ہونے والے! ہم متعدی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں تو ان سے ہمیں بیچا۔اس الہام میں صاف طور پر ایک سخت اور عام طور پر پھیلنے والی متعدی بیماری کی خبر دی گئی تھی بلکہ کئی متعدی و باؤں کی جن میں سے ایک طاعون ہے۔اس کے بعد فروری ۱۸۹۸ء کے ابتدائی حصہ میں آپ کو الہام ہوا۔اَلاَمْرَاضُ تُشَاءُ وَالتَّفُوسُ تُضَاعُ 9 یعنی ہندوستان میں کئی قسم کے امراض پھیلنے والے ہیں جن سے ہزاروں لاکھوں جانیں ضائع ہوں گی۔اُس وقت تک تو عام الفاظ میں متعدی و باؤں کی خبر دی گئی تھی۔لیکن ۶۔فروری کو وضاحت سے بتایا گیا کہ ان وباؤں میں سے ایک وباطاعون ہو گی۔چنانچہ ۶۔فروری ۱۸۹۸ء کو آپ نے رو یادیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات پر سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔آپ نے پوچھا یہ کیسے درخت ہیں۔تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔اس وقت آپ پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا۔یا یہ کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا۔یہ اس وقت کا رؤیا ہے جب ابھی بمبئی میں تھوڑی تھوڑی طاعون پھوٹی تھی اور پنجاب میں مطلق طاعون نہ تھی۔اسی رؤیا کے شائع ہونے کے بعد پنجاب میں طاعون آئی اور کیسی شدید آئی لوگ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ایک سال کے اندر ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ آدمی مرے بلکہ بعض اوقات تو ایک ایک ہفتہ میں ۲۵ - ۳۰ ہزا ر اموات ہو جاتی تھیں۔گویا ایک طوفان تھا جو کسی طرح تھمنے میں نہ آتا تھا۔بعض کی تو ہیبت ہی سے جان نکل جاتی تھی اور ہماری جماعت کا کثیر حصہ ایسا ہے جس نے اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر صداقت کو قبول کیا ہے۔