انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 308

308 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق زلزلہ بہار کے متعلق پیشگوئی اس کے بعد ایک اور پیشگوئی لیتا ہوں جو قریب عرصہ میں پوری ہوئی ہے اور اسے اختصار سے بیان کرتا ہوں۔یکم جون ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا۔عَفَتِ الذِيَارُ مَحَلُّهَا وَ مُقَامُهَا " یعنی مکان اور عارضی مکانات جن میں پہاڑوں پر جا کر لوگ رہتے ہیں تباہ ہو گئے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو پھر زلزلوں کی خبر دی۔اور ان میں سے ایک میں اس کا مقام بھی بتا دیا۔آپ نے ایک رویا میں دیکھا کہ بشیر احمد کھڑا ہے اور وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا۔" اس پیشگوئی کے مطابق نیپال اور بہار میں زلزلہ آیا۔جغرافیہ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ نیپال اور بہار کا وہ حصہ جس میں زلزلہ آیا ہے قادیان سے شمال مشرق میں واقع ہے۔اس زلزلہ کی خبر کے ساتھ یہ بھی خبر تھی کہ اس کے ساتھ طوفان بھی ہوں گے۔اب دیکھ لو کیسے واضح طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔قادیان سے شمال مشرق میں زلزلہ سے ہزار ہا جانیں تلف ہوگئیں اور ساتھ ہی طوفان کی وجہ سے صحنوں میں ندیاں چل پڑیں۔اس پیشگوئی کی عظمت کا پتہ اس امر سے لگ سکتا ہے کہ حکومت نے ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد ماہرین سیمالوجی کو جاپان سے منگوایا تھا اور وہ تحقیقات کر کے اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ ایک سو سال تک اس ملک میں سخت زلزلہ نہیں آ سکتا۔جب کہ ظاہری علوم کے ماہر یہ خبر دے رہے تھے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر دنیا کو بتایا کہ قریب میں ہی ایک اور زلزلہ آنے والا ہے۔چنانچہ زلزلہ آیا اور اس سے ایسی تباہی ہوئی کہ ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کی تباہی بھی اس کے سامنے بیچ ہے۔حکومت کی رپورٹ کے مطابق دس ہزار انسانی جانیں تلف ہوئی ہیں اور مالی نقصان کا اندازہ پندرہ بیس کروڑ تک جا پہنچتا ہے۔جانوں کی تباہی کا اندازہ ابھی تک صحیح نہیں کیا جا سکتا۔نیپال کی تباہی کو ملا کر یقیناً ۲۰ ہزار سے زائد اموات نکلیں ندازہ ابھی تک الہی مدینہ کے پہچاننے کی ایک یہ علامت بھی ہوتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیم کی جامعیت انسانی ضرورتوں کو پورا کرے کوئی انسان ایسا نہیں کر سکتا۔خصوصاً عقائد کے معاملہ میں کسی کو کیا خبر کہ خدا تعالیٰ کس بات سے راضی ہوگا۔ایک فلسفی ایک تھیوری پیش کرتا ہے اور دوسرا اس کا رڈ کر دیتا ہے۔قائم ہمیشہ وہی بات رہتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے۔قرآن پاک خدا کی کتاب ہے اور دیکھ لو کونسا مسئلہ ہے جو اس میں