انوارالعلوم (جلد 13) — Page 252
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۵۲ احمدیت کے اصول مکان کرایہ پر نہیں لے سکتے، کبھی کسی کے ہاں چلے جاتے ہیں اور کبھی کسی کے ہاں مگر باوجود اس کے ان کی عظمت اور رعب خدا کے فضل سے اتنا ہے کہ جو لوگ علوم مشرقیہ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور مسلّمہ مستشرقین ہیں، وہ ان کے سامنے دم نہیں مارتے۔وہاں ایک نومسلم مسٹر بارکر ہیں جو سولیسٹر (SOLICITOR) ہیں۔سولیسٹر بھی ایک نوع کی وکالت ہے۔ان کا کام بیرسٹروں کیلئے مقدمات تیار کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے ایک کمپنی سے تاریخ کی کوئی کتاب خریدی، جس کی قیمت اقساط میں ادا کرنا تھی۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی غلط بات لکھ کر ہتک کی گئی تھی۔ایسی باتوں کا آج کل یورپ میں بہت رواج ہو گیا ہے۔مسٹر بار کرنے اس کمپنی کو لکھا کہ تم لوگوں نے دھوکا کیا ہے کتاب کو تاریخی بیان کیا ہے اور باتیں اس میں غلط درج کی ہیں اس لئے میں اس کی قیمت نہیں دوں گا۔اگر تم قیمت لینا چاہتے ہو تو عدالت میں نالش کرو۔چنانچہ مقدمہ چلا اس میں شکاگو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی شہادت ہوئی۔اس نے دورانِ شہادت میں کہا کہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں نہیں لکھا گیا۔اس پر ہمارے مبلغ صوفی مطیع الرحمن صاحب نے جوش کے ساتھ کہا کون کہتا ہے کہ قرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نہیں لکھا گیا، یہ بات بالکل غلط ہے۔اس پر پروفیسر مذکور کہنے لگا اچھا اگر آپ کہتے ہیں کہ میں نے غلط کہا تو میں اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہوں اور جج نے بھی اپنے فیصلہ میں لکھا کہ افسوس ہے کمپنی نے کتاب میں جھوٹی باتیں لکھ دی ہیں۔غرض حضرت مرزا صاحب نے ایسے لوگ پیدا کر دیئے ہیں جو نہایت تکلیف دہ حالت میں سے گذرتے ہوئے تبلیغ اسلام کرتے ہیں۔افریقہ میں اس وقت ۲۰ ہزار کے قریب نو مسلم ہیں اور اس علاقہ کی آب و ہوا اس قدر خراب ہے کہ حکومت اپنے کسی افسر کو دو تین سال سے زیادہ عرصہ کیلئے وہاں نہیں رکھتی مگر ہمارے مبلغ وہاں سات سات آٹھ آٹھ سال متواتر کام کرتے ہیں اور نہایت تنگی ترشی کی حالت میں کرتے ہیں۔پھر انہیں تنخواہیں نہیں ملتیں، صرف قلیل گزارے ملتے ہیں اور یہ ایسے نمونے ہیں کہ ہر انسان سمجھ سکتا ہے یہ وہ عظیم الشان قربانیاں ہیں جو اسلام کے نام پر کی جا رہی ہیں۔یہ ہم ہی نہیں کہتے بلکہ مخالفوں کی بیسیوں تحریرات ہیں جن میں اعتراف کیا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی قربانیاں صحابہ کی طرح ہیں۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت مرزا صاحب نے اسلام کی محبت لوگوں کے دلوں میں ایسی قائم کر دی ہے کہ وہ اس کے لئے جان و مال سب کچھ قربان کر دینے پر آمادہ ہیں اور قربان کر رہے ہیں۔یہ تزکیہ ہے جو آپ نے کیا۔