انوارالعلوم (جلد 13) — Page 251
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۵۱ احمدیت کے اصول ہے۔ان کی تعلیم وہ اثر نہ کر سکتی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے چھوٹے جملے کرتے تھے۔حضرت عمر کے اسلام لانے کا واقعہ بھی اس کی دلیل ہے۔آپ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں گئے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ کیا اب تک تمہاری اصلاح کا وقت نہیں آیا۔یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور عرض کیا یا رَسُول اللہ ! میں مسلمان ہونے کیلئے ہی حاضر ہوا ہوں۔یہ تغیرات اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان سے ہی ہو سکتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے آکر بتایا کہ تزکیہ کا معجزہ اب بھی روشن ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال کے ظہور کیلئے خدا نے مجھے بھی یہ معجزہ دیا ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ پاکیزگی چاہتے ہوں، ان کو پاک کرو۔اس پاکیزگی کی تفصیلات بیان کرنا مشکل ہے ایک بات بیان کرتا ہوں۔اسلام کی خدمت کیلئے آپ نے ایک جماعت پیدا کی اور آپ کے اثر سے یہ نتیجہ نکلا کہ اگر چہ یہ جماعت چھوٹی سی ہے اور آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں کہلا سکتی۔کسی شہر میں پچاس احمدی ہیں کسی میں سو ، اور دو ہزار سے زائد تو کسی شہر میں نہیں سوائے قادیان کے اور سب کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہ ہوگی مگر دوسرے مسلمان چالیس کروڑ ہیں جن میں کمزور بھی ہیں اور مضبوط بھی، امیر بھی ہیں اور غریب بھی، لیکن اس زمانہ میں جب کہ اسلام پر شدید حملے ہور ہے ہیں، ایسے شدید حملے کہ پہلے کبھی نہیں ہوئے۔مٹھی بھر انسانوں کی اس جماعت کو جو جماعت احمد یہ ہے اللہ تعالیٰ نے خدمت دین کی جو توفیق بخشی وہ دوسروں کو نصیب نہیں۔ہم خدا کے فضل سے لاکھوں روپیہ سالانہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات تبلیغ اسلام کیلئے خرچ کر رہے ہیں، سینکڑوں آدمیوں نے اس کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں۔ان کی بھی خواہشات ہیں، آرزوئیں اور امنگیں ہیں، ان کے رشتہ دار دوست احباب بیوی بچے موجود ہیں مگر اسلام کے نام پر جب ان کو بلایا جائے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً حاضر ہو جاتے ہیں۔بیوی بچوں رشتہ داروں اور وطن کو چھوڑ کر غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے چلے جاتے ہیں اور سات سات آٹھ آٹھ سال تک وہاں کام کرتے رہتے ہیں۔غیر ممالک میں، غیر اقوام میں اور پھر ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت کرتے ہیں جو ہندوستانیوں کو ذلیل سمجھتے ہیں، پھر اس صورت میں کہ ان کے پاس سامان بہت کم ہوتے ہیں، اخراجات کی سخت تنگی ہوتی ہے، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ابھی امریکہ سے آئے ہیں انہوں نے امریکہ کے مبلغ کی حالت بتائی کہ وہ مالی تنگی کی وجہ سے کوئی