انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 253

۲۵۳ انوار العلوم جلد ۱۳ احمدیت کے اصول حضرت مسیح موعودا اور تعلیم کتاب تیرا کام بعلمهم الكتب ہے یعنی يُعَلِّمُهُمُ قرآن سکھانا۔آپ سے قبل دنیا میں یہ حالت تھی کہ مسلمانوں میں یہ خیال عام تھا کہ قرآن کریم کی بعض آیات منسوخ ہیں اور ان کی تعدا د مختلف لوگوں کے نزدیک پانچ سے پانچ سو تک تھی اور یہ قرآن پر ایک زبر دست اعتراض تھا۔عیسائی اور دوسرے غیر مسلم کہتے تھے کہ جب اس قدر آیات منسوخ ہیں تو کس طرح امتیاز کیا جا سکتا ہے کہ باقی فی الواقع قابل عمل ہیں۔کونسی آیات منسوخ ہیں اور کونسی ناسخ۔اگر تو ایک تعداد پر سب متفق ہوتے تو اور بات تھی لیکن جب منسوخ آیات کے متعلق اس قدر اشتباہ ہے تو باقی حصہ کیونکر قابل اعتماد سمجھا جا سکتا ہے اور یہ ایک ایسا خطرناک حملہ تھا کہ صرف اس سے ہی قرآن کریم کی عظمت اٹھ جاتی تھی اور شبہ پیدا ہو جاتا تھا کہ جس آیت پر ہم عمل کرتے ہیں، شاید وہ منسوخ ہی ہو اس عقیدہ کے لوگ دلیل قرآن کریم کی آیت مَانَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْنُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرِ مِنْهَا ل سے دیتے تھے اور اس کے معنی یہ کرتے تھے کہ ہم قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں کرتے مگر اس سے بہتر لے آتے ہیں حالانکہ یہاں قرآن کی آیات کا ذکر نہیں بلکہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیاں مراد ہیں۔قرآن کریم پہلی کتابوں کی ان تعلیمات کو جو اُس وقت سچی اور قابل عمل تھیں، وہ دوبارہ لے آیا اور بعض جو قابل عمل نہ رہی تھیں، انہیں بدل کر ان کی جگہ بہتر لایا جو پہلی سے اعلیٰ اور زمانہ کی ضرورت کے مطابق تھیں اس طرح اس آیت میں پرانی کتب کے نسخ کا ذکر تھا۔وگر نہ قرآن بِسْمِ اللہ کی ب سے لے کر وَالنَّاسِ کی س تک ایسا ہی محفوظ اور قابل عمل ہے، جیسے پہلے تھا۔حضرت مرزا صاحب نے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا اور یہ ایسا دعوی تھا جس سے بھاگی ہوئی فوج واپس آ گئی اور پھر کھڑی ہوگئی۔لوگوں کو قرآن پر غور کرنے کا موقع ملا اور بعض عظیم الشان صداقتیں جنہیں منسوخ سمجھا جاتا تھا ظا ہر ہوئیں۔مثلاً لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّين ۱۳ کی آیت کو لَا إِكْرَاهَ فِى الدِّين اور جہاد منسوخ سمجھا جاتا تھا حالانکہ جہاداور یہ حکم دونوں جاری ہیں اور ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں کیونکہ جب قرآن یہ کہتا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر نہیں تو گویا یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ اگر کوئی جبر کرے تو اس کا مقابلہ بھی کرنا چاہئے اس طرح یہ احکام ایک دوسرے کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔تو جب اسلام نے یہ کہا لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّين تو ساتھ ہی جہاد کا بھی حکم دیا تا کہ اِکراہ کرنے والوں کا مقابلہ کیا جاسکے اور جب یہ حکم ہوا کہ دین