انوارالعلوم (جلد 13) — Page 115
۱۱۵ انوار العلوم جلد ۱۳ بر در ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط اوّل مجھے ایک کاپی ایک اشتہار کی بھیجی گئی ہے جو ایک ایسے معاہدہ پر مشتمل ہے جو بعض ذمہ دارلوگوں اور حکومت کے درمیان ہوا ہے۔اس میں ان لوگوں نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ آئندہ ملک میں کوئی فساد نہ ہوگا اور حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اس میں کامیاب ہوئے تو وہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو چھوڑ دیں گے۔میں نے اس کاغذ پر دستخط کرنے والوں کے ناموں کے متعلق دریافت کرایا ہے کہ آیا اس پر میر واعظ یوسف شاہ صاحب کی پارٹی کے بھی دستخط ہیں تو مجھے بتایا گیا ہے کہ نہیں۔اگر یہ درست ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے لیڈ ر حکومت کے بعض افسروں کی باتوں میں آگئے ہیں کیونکہ اس معاہدہ کے کھلے اور صاف معنی یہ ہیں کہ فساد کے ذمہ دار پورے طور پر شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور ان کی پارٹی کے لوگ تھے کیونکہ اگر فساد کے ذمہ دار وہ نہ تھے بلکہ دوسرا فریق تھا تو وہ امن کا ذمہ کس طرح لے سکتے تھے۔کیا کوئی عظمند اس کو تسلیم کر سکتا ہے کہ فساد تو میر واعظ یوسف شاہ صاحب کے آدمی کریں اور فسادمٹانے کی ذمہ داری شیخ صاحب کے آدمی لیں اور پھر کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ شیخ صاحب کے دشمن اس لئے فساد چھوڑ دیں گے تا کہ شیخ صاحب کو حکومت چھوڑ دے۔بیشک امن قائم کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے لیکن امن کا اعلان ان الفاظ میں کرنا کہ گویا سب فساد شیخ صاحب نے کیا ہے اور انہیں کے آدمی سب فساد کرتے تھے وفاداری کے اصول کے بالکل خلاف ہے۔دوسری دلیل اس کی یہ ہے کہ بعض لیڈروں نے اس اصل کو تسلیم کر لیا ہے کہ اگر چھ ہفتے تک فسادات نہ ہوئے تو شیخ صاحب آزاد ہونگے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ شیخ صاحب کی آزادی کو ان کے دشمنوں کے اختیار میں دے دیا گیا ہے۔کیا وہ وزراء کو یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ آپ لوگوں نے شیخ صاحب کو قید ہی اس لئے کیا ہے کہ کشمیر میں دو پارٹیاں ہیں اور وہ آپس میں لڑتی ہیں پھر کیا اس شرط کے یہ معنی نہیں کہ آپ ان کی دشمن پارٹی کو اُکساتے ہیں کہ وہ فساد کرتی رہے تا کہ شیخ صاحب آزاد نہ ہوں۔ہم اپنی پارٹی کے ذمہ وار ہو سکتے ہیں ، دوسری پارٹی کے ذمہ وار کس طرح ہو سکتے ہیں بلکہ میرے نزدیک تو ان کو یہ زور دینا چاہئے تھا کہ اصل سمجھوتہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب ہی کر سکتے ہیں، ہم تو صرف عارضی صلح کر سکتے ہیں اور نیز یہ کہ دوسری پارٹی اگر فساد کرے تو اس کا اثر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی آزادی پر نہیں پڑنا چاہئے۔تیسری دلیل یہ ہے کہ شیخ صاحب کے بعد ایسے لوگوں کے ہاتھ میں بعض عہدے دیئے گئے ہیں جو ان سے مخالفت کرتے رہے ہیں اور ان کو گرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ایسے لوگوں