انوارالعلوم (جلد 13) — Page 114
۱۱۴ انوار العلوم جلد ۱۳ بر در ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط میر واعظ صاحب سے تو (۱) صرف ضمانت طلب کرتی ہے (۲) ضمانت کے نہ دینے پر زیر حراست کرتی ہے۔لیکن رکھتی کشمیر میں ہی ہے (۳) بقول میر واعظ یوسف شاہ صاحب کے نہ تو انہوں نے ضمانت دی اور نہ حکومت سے کوئی سمجھوتہ کیا ہے پھر بھی حکومت انہیں یہ کہہ کر آزاد کر دیتی ہے کہ کسی نے ان کی جگہ ضمانت دے دی ہے (۴) با وجود اس کے کہ ان کی جماعت کی طرف سے مظاہرے ہور ہے تھے انہیں آزاد کر دیا گیا اور یہ شرط نہیں کی گئی کہ جب تک کشمیر میں امن نہ ہوگا اور ایک معینہ عرصہ تک امن نہ رہے گا، انہیں آزاد نہ کیا جائے گا۔(۵) ان کی تائید میں مظاہرے کرنے والوں پر گولیاں نہیں چلائی گئیں لیکن شیخ محمدعبداللہ صاحب سے یہ سلوک کیا جاتا ہے کہ (۱) بغیر ضمانت طلب کرنے کے انہیں آرڈینینس کے ماتحت گرفتار کیا جاتا ہے (۲) انہیں کشمیر سے باہر ایک سخت گرم جگہ پر قید کیا جاتا ہے۔(۳) ان کی آزادی کیلئے مظاہرہ کرنے والوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔(۴) ان کی آزادی کیلئے یہ شرط کی جاتی ہے کہ وہ حکومت سے خاص شرائط پر معاہدہ کریں اور اگر اس میں کامیابی نہیں ہوتی تو ان کی طرف سے ایک جماعت سے معاہدہ لیا جاتا ہے۔(دیکھو مختلف اخبار جن کی تردید حکومت نے نہیں کی ) (۵) مزید شرط یہ کی جاتی ہے کہ جب تک امن پر چھ ہفتے نہ گذر جائیں، انہیں آزاد نہ کیا جائے گا۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کا آزاد ہونا، ان کے دشمنوں کے ہاتھ میں ہے۔وہ جب چاہیں ایک فساد کر دیں اور ان کی آزادی کو ملتوی کرا دیں۔یا یہ کہ ریاست کے بعض حکام چاہتے ہیں کہ چھ ہفتہ تک شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے ہمدرد اپنے دشمنوں کے رحم پر رہیں اور جو کچھ بھی ظلم ان پر کیا جائے اسے برداشت کریں تا شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی رہائی میں روک پیدا نہ ہو۔یہ سب واقعات اور ان کے علاوہ اور بہت سے واقعات بتاتے ہیں کہ حکومت میں ایک ایسا عصر موجود ہے جس کی اصل غرض یہ ہے کہ کسی طرح لوگوں کی ہمدردی کو شیخ محمد عبداللہ صاحب سے ہٹا کر دوسری پارٹی کی طرف کر دیا جائے یا کم سے کم ان کی پارٹی کو کچل دیا جائے۔مگر کیا نو جوانان کشمیر ! اس بے غرض خدمت کو بھول جائیں گے جو ان کے لیڈر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے نہایت مخالف حالات میں کی ہے؟ میں امید کرتا ہوں کہ کشمیر کے تمام غیور باشندے اس سوال کا جواب یک زبان ہو کر یہی دیں گے کہ ہر گز نہیں۔لیکن با وجود اس کے کہ آپ میں سے ہر ایک یہی جواب دے گا مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حالات اس امر کی تصدیق نہیں کر رہے اور میرے اس بیان کے مندرجہ ذیل دلائل ہیں۔