انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 116

انوار العلوم جلد ۱۳ 117 بر در ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط نے یقیناً ان کی ذلت کی کوشش کرنی تھی اور انہوں نے کی۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ غلطی صرف بعض کا رکنوں سے ہوئی ہے اور ملک شیخ صاحب کے ساتھ ہے اور اب بھی وفادار ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک اپنی آواز کو زور سے بلند کرے اور اپنے منشاء کو ظاہر کرے۔میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ گو میرے نزدیک اس معاہدہ میں اصولی غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اسلام کی تعلیم کے مطابق ہر مسلمان کا فرض ہے کہ امن قائم رکھے۔پس خواہ معاہدہ ہو یا نہ ہو خواہ شیخ صاحب کو حکومت فوراً آزاد کر دے یا دیر سے آپ لوگوں کو چاہئے کہ ہر قسم کے فساد سے بچیں۔وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ کشمیر آزاد نہ ہو فساد ڈلوا نیکی پوری کوشش کریں گے مگر آپ کا فرض ہے کہ قانون شکنی نہ کریں اور صرف اپنے کام سے کام رکھیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں که با وجود قانون کا احترام اور ادب کر میکے فتح حاصل ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے۔اور اگر آپ لوگ میری ہدایتوں پر عمل کریں تو مجھے یقین ہے کہ آپ کو بغیر کسی فساد کے کامیابی ہوگی۔آپ پچھلے سال دیکھ چکے ہیں کہ میرے مشورے آپ کیلئے مفید ثابت ہوئے ہیں، اب پھر آپ لوگ تجر بہ کر لیں یہی راہ آپ کے لئے مفید ثابت ہوگی کہ قانون نہ توڑیں اور غیر ضروری شور نہ مچائیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے ایسے راستے کھولے ہیں کہ وہ بغیر قانون شکنی کے اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر امن کی وہ طاقت رکھی ہے کہ شورش پسندی کو وہ طاقت ہرگز حاصل نہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ پہلے بھی ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں مگر میں آپ کو مزید ہوشیار کرنا چاہتا ہوں۔آپ کو یا درکھنا چاہئے کہ اگر آپ آپس میں لڑیں گے تو سب مسلمانوں کی ہمدردی آپ سے جاتی رہے گی اور آپ اکیلے رہ جائیں گے اور دشمنوں کا شکار ہو جائیں گے۔آئندہ کیلئے دستور عمل اب میں آپ کو آئندہ کام کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب حکومت سختی پر اتر آئے تو انجمنیں کام نہیں دے سکتیں۔پس جب تک شیخ صاحب باہر نہ نکلیں نوجوانوں کا فرض ہے کہ قومی زندگی کو قائم رکھنے کیلئے اپنی تنظیم کریں اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ سرینگر جسے شہر میںتو محلہ دار قومی خدمت کا در در کھنے والے لوگ آپس میں سے ایک ایک شخص کو اپنا لیڈر بنالیں۔اس کا نام خواہ ڈکٹیٹر رکھیں یا کچھ اور۔مگر بہر حال محلہ وار ایک ایک لیڈر ہونا چاہئے اور اس کے بعد محلوں کے لیڈر اپنے میں سے ایک لیڈ رتجویز کر لیں جو سارے شہر کے حالات کا نگران رہے۔