انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 111

111 انوار العلوم جلد ۱۳ بر درانِ کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط ہے کہ سید زین العابدین کی ہتک منظور نہ تھی بلکہ مطلب صرف یہ تھا کہ ان کے آنے سے لوگوں میں جوش پیدا نہ ہو لیکن حکم کے الفاظ واضح ہیں حکم میں صاف یہ لکھا ہے کہ فساد کرانے کی نیت سے آپ آئے ہیں اور یہ آپ کا گذشتہ طریق عمل اس بد نیتی کی تصدیق کرتا ہے۔پس حکام بالا کا یہ کہنا کہ ہمارا ہر گز یہ منشاء نہ تھا کہ شاہ صاحب فساد کرانے کی نیت سے آئے ہیں، صاف بتا تا ہے کہ ریاست کے بعض حکام انگریز افسروں کے احکام کی پوری تعمیل نہیں کرتے بلکہ اپنے پاس سے خلاف واقع با تیں شامل کر دیتے ہیں۔ریاست کے حکام کے پاس حکومت کی طاقت ہے اور میرے پاس دلیل کی طاقت۔ریاست نے حکومت کا زور آزما لیا ہے اور اب اگر ریاست نے اصلاح نہ کی تو میں دلیل کا زور آزماؤں گا۔میں ایک طرف گورنر کے الفاظ کو نقل کروں گا اور دوسری طرف حکام بالا کی تشریح کو اور اسے چھاپ کر تمام ممبران پارلیمنٹ اور انگریزی کے اخبارات اور ذمہ دار افسران کے پاس بھیجوں گا اور پوچھوں گا کہ کیا یہ طریق حکومت کامیاب ہو سکتا ہے؟ میں اس کے ساتھ انگریز افسروں کی وہ تحریرات درج کروں گا جو انہوں نے سید زین العابدین کے نام ارسال کی ہیں اور جن میں لکھا ہے کہ انہوں نے قیام امن میں ریاست کی پوری امداد کی ہے۔پھر دنیا اس کو پڑھ کر خود اندازہ لگالے گی کہ گورنر کشمیر کا یہ حکم حکومت کے زور پر تھا یا کہ دلیل اور انصاف کے زور پر۔وہ اس امر کا اندازہ لگالے گی کہ انگریز حکام کے منشاء کو ماتحت حکام کس طرح پورا کر رہے ہیں اور ان کی آمد سے غریب مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ میرا ہمیشہ سے یقین ہے کہ دلیل تلوار سے زیادہ زبردست ہے اور باوجود حکومت کشمیر کی طاقت اور اس کے معاونوں کی قوت کے مجھے یقین ہے کہ جلد یا بدیر میری کمزوری کے باوجو د مظلوم کی مدد کی کوشش اور انصاف کی تائید آخر کامیاب ہو کر رہے گی۔یہ دنیا لا وارث نہیں، اس کے اوپر ایک زبر دست خدا نگران ہے۔وہ ہمیشہ انصاف اور سچ کی امداد کرتا ہے اور وہ یقیناً اب بھی ان غیر منصفانہ افعال کو جیتنے نہیں دے گا۔تیسری کوشش میں نے یہ کی کہ اپنے انگلستان کے نمائندہ کو تار دی کہ وہ وہاں وزراء اور امراء اور ممبران پارلیمنٹ اور پریس کے سامنے سب حالات رکھیں اور انصاف کی طرف توجہ دلائیں۔اس بارہ میں جو کام ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ذی اثر دوست نے اس بارہ میں وزیر ہند سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔پارلیمنٹ کے بعض ممبروں نے پارلیمنٹ میں سوال کرنے کا وعدہ کیا ہے اور بعض ذمہ دار امراء نے اس معاملہ کی طرف خود توجہ کرنے اور اس کی اہمیت کی طرف