انوارالعلوم (جلد 13) — Page 110
11 + انوار العلوم جلد ۱۳ بر در ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط اول میں نے سوچا کہ جب تک پبلک میں بیداری پیدا نہ کی جائے اور ان کی محبت کو اپنے لیڈروں سے قائم نہ رکھا جائے اس وقت تک اندرونی دباؤ ریاست پر نہیں پڑ سکتا اس کے لئے میں نے اپنا پہلا خط شائع کیا اور کشمیر کے کام کے متعلق جو لوگ سرگرم ہیں، انہیں ہدایت کی کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میں بہت حد تک کامیابی ہوئی اور میں اس بارہ میں صوبہ جاتی انجمنوں کا ممنون ہوں کہ انہوں نے شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے اظہار وفاداری کر کے میرے ہاتھوں کو بہت مضبوط کر دیا۔دوسری بات میں نے یہ سوچی کہ ریاست کے حکام کو توجہ دلاؤں تا کہ وہ زور اور طاقت کے استعمال کو چھوڑ کر تحمل اور دلیل کی طرف توجہ کریں مگر افسوس کہ اس بارہ میں مسٹر کالون کا رویہ اتنا ہمدردانہ ثابت نہیں ہوا جس قدر کہ مجھے ان سے امید تھی۔مجھے ان پر اب تک حُسنِ ظنی ہے لیکن میرے نز دیک انگریز جس قد را نگریزی علاقہ میں مفید کام کر سکتے ہیں، ریاست میں نہیں کر سکتے کیونکہ ریاستوں میں دیانتدار کارکنوں کا ملنا بہت دشوار ہوتا ہے اور بغیر اچھے نائبوں کے انسان اچھا کام نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ انگریز بھی اس خیال میں مجھ سے متفق ہیں۔کیونکہ اگر وہ ہندوستانیوں کو حکومت کا پورا اہل سمجھتے تو ہندوستان کو آزادی دینے میں اس قدر پس و پیش کیوں کرتے۔اس بارہ میں میں نے جو کچھ کیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے اس کام کیلئے سید زین العابدین صاحب کو مقرر کیا کہ وہ مسٹر کالون اور مسٹر پیل سے جا کر ملیں اور ان کے آگے تمام حالات رکھ کر انہیں موجودہ مظالم دور کرنے کی ترغیب دیں۔ان کے ساتھ شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو میں نے اس لئے بھجوایا تا کہ وہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے مل کر ان کی طرف سے قانونی طور پر کارروائی کریں اور اسی طرح گذشتہ فسادات میں جو میر واعظ صاحب ہمدانی اور ان کے معتقدوں کے خلاف بعض خلاف قانون کا رروائیاں ہوئی ہیں یا مقدمات چلائے گئے ہیں، اس میں قانونی امداد دیں۔آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ مہذب دنیا کے معروف دستور کے خلاف گورنر نے ان دونوں صاحبوں کو فوراً ریاست سے نکلنے پر مجبور کیا۔حکم کے الفاظ یہ تھے کہ آپ لوگوں کے گذشتہ اعمال سے یہ ثابت ہے کہ آپ سرینگر میں فساد کرانے کی نیت سے آئے ہیں۔شیخ بشیر احمد صاحب تو وکیل ہیں، خود اپنی طرف سے ہائی کورٹ کو توجہ دلائیں گے مگر سید زین العابدین صاحب کے متعلق جو حکم دیا گیا تھا اس کے متعلق میں نے حکام کو توجہ دلائی تو مجھے یہ جواب دیا گیا نے