انوارالعلوم (جلد 13) — Page 112
۱۱۲ انوار العلوم جلد ۱۳ بر در ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط حکومت کو توجہ دلانے کا وعدہ بھی کیا ہے سو امید ہے کہ اِنشَاءَ اللہ جلد انگلستان کے لوگوں کی توجہ اس سوال کی طرف ہو جائے گی اور ان کی توجہ کا نیک اثر ہند وستان میں بھی پیدا ہو گا۔چوتھی کوشش میں نے اس بارہ میں یہ کی ہے کہ اپنے ایک نمائندہ کو شملہ بھجوا دیا ہے تا کہ وہ وہاں کے ذی اثر لوگوں اور حکام کومل کر معاملات کشمیر کی طرف توجہ دلائیں جنہوں نے یہ کام وہاں شروع کر دیا ہے اور امید ہے کہ جلد اس کے نیک نتائج نکلنے شروع ہو جائیں گے لیکن چونکہ میں اب کشمیر کمیٹی کا صدر نہیں ہوں اس لئے یقیناً اس کام میں میرے ہاتھ اور بھی مضبوط ہو جائیں گے اگر کشمیر کی ریاست کی مختلف انجمنیں ریزولیوشنوں کے ذریعہ سے اس امر کا فیصلہ کریں اور حکومت کو اطلاع دیں کہ میں ان کے حقوق کیلئے حکومت کو مخاطب کرنے کا حق رکھتا ہوں اس طرح ایک طرف تو ان لوگوں کی کارروائیوں کا اثر باطل ہو جائے گا جو ریاست میں سے اس امر کے خلاف شور کر رہے ہیں کہ اب مجھے دخل دینے کا کوئی حق نہیں اور دوسری طرف آپ لوگوں کیلئے مناسب موقعوں پر آواز بلند کر نیکی صورت پیدا ہو جائے گی۔اس میں شک نہیں کہ کشمیر کا ایک فریق مجھ پر اعتبار نہیں رکھتا یا یہ کہ بعض ہندوؤں نے اپنے فائدہ کیلئے انہیں میرے مقابل پر کھڑا کر دیا ہے مگر مجھے ان کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں۔میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جو لوگ مجھ سے امداد چاہتے ہیں، میں حسب وعدہ ان کی امداد کروں اور ان کی قومی آزادی اور ان کے حقیقی لیڈر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی آزادی کیلئے کوشش کروں اور انہیں چاہئے کہ وہ اس طرح مجھے اپنی خدمت کا موقع دیں۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ کشمیر کے لوگ تو چاہتے ہوں کہ میں ان کے معاملہ میں دخل نہ دوں اور میں خواہ مخواہ ان کیلئے اپنا وقت ضائع کرتا رہوں۔اپنے کام کے اظہار کے بعد اب میں آپ لوگوں کو موجودہ صورت حالات موجودہ صورت حالات کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں۔آپ لوگ غالبا اس امر کو سمجھ چکے ہونگے کہ بعض افسرانِ ریاست نے یہ دیکھ کر کہ ریاست کے بعض سابق افسران کے مظالم اس قدر طشت از بام ہو چکے ہیں کہ سیاسی عذرات کے ماتحت کشمیر کے حقیقی لیڈروں کو قید کرنا ان کیلئے بالکل ناممکن ہے، قومی خدام کو فساد اور شورش کے الزام کے نیچے گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔میں اس امر کا یقین رکھتا ہوں کہ بعض افسرانِ ریاست کی نیت درست نہیں اور اس یقین کی وجوہ یہ ہیں :۔